تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 354

حالانکہ ان سب مقامات پر صرف ایک رسول کے انکار کا ذکر ہے اور حضرت نوح ؑ سے پہلے توکوئی بہت سے رسول گزرے بھی نہ تھے کہ ان کے انکار کا ذکر ہوتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ نوح ؑ اول الرسل تھے۔(بخاری کتاب الانبیاء باب قولہ تعالیٰ ولقد ارسلنا اِلی قَوْمِہٖ) ایک رسول کے انکار سے سب رسولوں کے انکار کا الزام لگائے جانے کی وجہ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک رسول کے انکار پر کیوں سب رسولوں کے انکار کا الزام لگاگیاہے؟اس کے متعلق علامہ ابو حیا ن مصنف تفسیر بحر محیط نے نہایت لطیف بحث کی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو کہاگیا ہے کہ ایک رسول کے انکارکرنے والوں نے گویا سارے رسولوں کا انکار کیا (البحر المحیط زیر آیت ھذا)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان وہی نفع دیتاہے جوسمجھ کر لایا گیاہو۔پس جو شخص کسی ایک رسو ل کو پہچان کر اورسمجھ کر مانے گا وہ سب کو مان لے گا(جیسے وہ شخص جس نے خربوزہ یاآم کھایاہو وہ جب کبھی خربوزہ یاآم دیکھے گافورًا پہچا ن لے گاکہ یہ خربوزہ یاآم ہے ایسا ہی جس شخص نے ایک نبی کو سمجھ کر مان لیاوہ یقیناًدوسرے نبیوں کو پہچاننے میں کوئی دقت محسوس نہ کرے گا)مگر جس نے کسی ایک رسول کابھی انکار کیا۔اس کے متعلق ہم نتیجہ نکال لیں گے کہ وہ خواہ کسی رسول کے وقت میں ہوتا ا س کابھی انکار کرتا۔کیونکہ سب نبیوں کے حالات ایک سے ہوتے ہیں۔یہ نکتہ نہایت لطیف ہے اورزبردست سچائی پر مشتمل ہے اوروہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلاں قوم نے اگر فلاں مدعی کاانکار کیا ہے۔توکیاہوا؟وہ پہلے بہت سے رسولو ں کو مان رہے ہیں۔کیاان پر ایمان لانا انہیں نفع نہ دے گا؟وہ حقیقت ایمان سے ناواقف ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کا پہلے نبیوں پر ایمان محض رسمی ہوتاہے۔اگر وہ سمجھ کرپہلے رسولو ںکو مان رہے ہوں توجو شخص انہی کے نقش قدم پر آیاہو اورانہی کے حالات میں سے گزررہاہوا س کا انکار کیوں کریں؟پس ان کاماننا ایمان کی وجہ سے نہیں بلکہ رسمًااورعادتًاہے اورایسے ایمان کو ایمان کہنا ظلم صریح ہے۔وَ اٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَۙ۰۰۸۲ اورانہیں(بھی)ہم نے اپنے (ہرقسم کے)نشان دیئے تھے جس کا نتیجہ( اُلٹا )یہ ہواکہ وہ ان سے روگردان ہوگئے تھے۔حلّ لُغَات۔مُعْرِضِیْنَ:مُعْرِضِیْنَ اَعْرَضَ سے اسم فاعل مُعْرِضٌ بنتاہے اورمُعْرِضُوْنَ اس کی جمع ہے۔اَعْرَضَ کے معنے ایک طرف ہونے کے ہیں۔کیونکہ اَعْرَضَ عَرَضَ سے نکلاہے جس کے معنی پہلو کے