تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 353
متعلق فرمایاتھا۔وہ ایک سَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ پرواقع ہیں۔اوراس جگہ فرمایا ہے اصحا ب ایکہ کا مقام ایک اِمَامٍ مُّبِیْنٍ پر واقع ہے۔اس میں یہ اشارہ ہے کہ لوط کی بستیوں کے پاس سے گذرنے والا راستہ ہمیشہ قائم رہے گا لیکن ایکہ والے راستہ کے نشانات توباقی رہیں گے۔لیکن اس راستہ پر قافلوں کاگذر بند ہوجائے گا۔چنانچہ واقعات نے اس کی تصدیق کردی۔پہلا راستہ تو اب تک جاری ہے دوسرے پر قافلے جانے بند ہوچکے ہیں۔وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِيْنَۙ۰۰۸۱ حجروالوں نے (بھی )یقینا(ہمارے)پیغمبروں کو جھٹلایاتھا۔حلّ لُغَات۔الْحِجر:الْحِــجْرُ اَلْحِصْنُ حجرکے معنے ہیں۔قلعہ۔نیزدیار ثمود کوبھی حجر کہتے ہیں (اقرب) الحِجْرُ وَالتَّحْجِیْرُ اَنْ یُجْعَلَ حَوْلَ الْمَکَانِ حِجَارَۃٌ۔حجر اورتحجیر کے معنے مکان اوراردگرد پتھروں کی دیوار بنانے کے ہیں۔وَسُمِّیَ مَااُحِیْطَ بِہِ الْحِجَارَۃُ حِـجْرًا۔اورجس جگہ کے گرد پتھر وں کی دیوار ہو اسے بھی حجر کہتے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔یہ رکوع اوراگلی سورۃ النحل کاپہلارکوع بہت سے اہم مطالب اورپیشگوئیوں پر مشتمل ہیں۔اصحاب الحجر سے مراد حجر سے مراد وہ احاطہ یاقلعہ یا شہرہوتاہے جس کے گرد پتھروں کی دیوار ہو۔اصحاب الحجر سے مراد ثمود و قوم صالح کاشہرہے۔اسے حجر اس لئے کہتے تھے کہ مضبوط فصیلوں کاشہر تھا۔اورجیسا کہ اگلی آیات سے ظاہر ہے پتھروں سے اس کی تعمیر میں بہت کام لیا گیاتھا۔آنحضرت ؐ کا غزوہ تبوک کو جاتے ہوئے حجر کے مقام سے گزرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم غزوہ تبوک کو جاتے ہوئے ا س مقام کے پاس سے گذرے تھے۔آپ نے صحابہ کو وہاں کاپانی استعمال کرنے سے منع فرمایاکہ یہ بستی الٰہی عذاب کا مقام ہے(بخاری کتاب الانبیاء باب قولہ تعالی وکذب اصحاب الحجر ) ایک رسول کے انکار سے سب رسولوں کا انکار آیت زیر تفسیر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اصحاب الحجر نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔حالانکہ انہوں نے صرف حضرت صالح کاانکارکیا تھا۔اس طرز کلام کو سورئہ شعراء میں بھی استعمال کیاگیا ہے۔وہاں فرماتا ہے کہ نوح ؑ کی قوم نے رسولوں کاانکار کیا (الشعراء:۱۰۶) قوم عاد نے رسولوں کاانکار کیا (الشعراء:۱۲۴)قوم ثمود نے رسولوں کاانکار کیا (الشعراء:۱۴۲)قوم لوط نے رسولوں کاانکار کیا (الشعراء:۱۶۱)