تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 355
ہیں۔پس اعراض کے معنے پہلو تہی کے ہوئے۔یہ دستورہے کہ جس سے اعراض مقصود ہو انسان اس سے منہ پھیر لیتا ہے اوریہ ناراضگی کی علامت ہوتی ہے پس مُعْرِضِیْن کے معنے ہوئے کہ انہوںنے اس سے انکارکیا۔انہوں نے منہ پھیر لیا اورتوجہ نہ کی۔(المفردات) تفسیر۔یعنے انہیں آیات الٰہی دکھائی گئیں۔مگر انہوں نے اعراض کیا۔پس کیونکرمانا جائے۔کہ ویسی ہی آیات دیکھ کر دوسرے نبیوں کووہ مان رہے ہیں یامان سکتے ہیں۔گزشتہ تین آیات میں تین قوموں کا ذکر گزشتہ آیات میں تین قوموں کا ذکرکیا گیا ہے۔قوم لوط۔قوم شعیب اورقوم صالح۔ان میں سے قوم صالح پہلے تھی۔پھر قوم لوط۔پھرقوم شعیب۔قوم لوط، شعیب ،صالح کی قوم کا ذکر کرتے ہوئے ان کے زمانے کی ترتیب کو بدلنے کی وجہ اب سوال یہ ہے کہ زمانہ کی ترتیب کوکیوں بدلاگیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ مکہ والوں کو یہ بتانا مقصودہے کہ پہلے انبیاء جن کو تم جانتے ہو۔ان پر نازل ہونے والے کلام کے منکر بھی ایک حد تک شرارتیںکرنے کے بعد ہلاک کردیئے گئے تھے۔محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکارپر تم خوش نہ ہو۔اوریہ نہ خیال کرو کہ ہم غالب ہیں۔اور اب تک ہماری شرارتوں کی سزانہیں ملی اپنے وقت پر تم کو بھی سزا ملے گی جس طرح ان کو ملی اس حجت کو پیش کرنے کا ایک طریق یہ بھی ہوسکتاتھا کہ زمانہ کے لحاظ سے واقعات کو پیش کیا جاتا۔لیکن دوسراطریق یہ بھی ہوسکتاتھا۔کہ اس فاصلہ کے لحاظ سے ان کا ذکر کیاجاتا جس پر یہ قومیں عربوں سے دور یا نزدیک واقع تھیں۔اوراس موقع پر یہی طریق اختیار کیا گیا ہے اورپہلے زیادہ دور فاصلہ والی قوم یعنی قوم لوط کا ذکر کیاگیا ہے پھر کہا گیاہے کہ لو ان سے بھی قریب تر ایک قوم گزری ہے۔یعنی قوم شعیب۔ان کابھی حال سن لو پھر اس کے بعد ثمود کی تباہی کابیا ن کیا۔کہ لو یہ قوم قوم شعیب سے بھی تمہارے قریب تر ہے۔اورخود عرب کے علاقہ میں واقع ہے۔ان کے حالات سے ہی عبرت حاصل کرو۔ا س سورۃ میں ان قوموں کا ذکر کیاگیاہے جن میں تحریر کارواج کم تھا۔اورجن کو عرب مانتے تھے۔حضرت آدم تو سب کے ساجھے ہیں۔حضرت لوط حضرت ابراہیم کے رشتہ دارتھے۔اوراس طرح عربوں کے اجداد میں سے تھے۔حضرت شعیب مدین میں سے تھے جوبنو اسماعیل کے بنو العَم تھے۔اوربنواسماعیل سے گہراتعلق رکھتے تھے اور انہی میں جذب ہوگئے تھے۔ثمو د خالص عرب تھے۔(مروج الذھب للمسعودی الجزء الثانی ذکر مکة و أخبارھا)