تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 319

اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِيْنَ۰۰۴۷ (انہیں کہا جائے گا کہ)تم سلامتی کے ساتھ بے خوف (وخطر)ان میں داخل ہوجائو۔حل لغا ت۔بِسَلٰمٍ بِسَلٰمٍکے لئے دیکھو سورئہ یونس آیت نمبر ۱۱و۲۶۔سلام۔سَلَامٌ سلام کے کئی معنی ہیں۔اِسْمٌ مِنَ التَّسْلِیْم۔باب تفعیل سے اسم مصدر ہے اور اس کے معنی سلامتی دینے کے ہیں۔انقیاد یعنی فرمانبرداری۔سلام خدا کا نام بھی ہے۔کیونکہ وہ تمام عیبوں اور نقصوں سے پاک ہے۔(اقرب) تفسیر۔دارالسلام جنت کو بھی کہتے ہیں۔اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍملائکہ کا قول معلوم ہوتا ہے یہ ملائکہ کاقوم معلوم ہوتاہے یعنی ملائکہ ان سے اس دنیا میں بھی کہتے ہیں اوراگلے جہان میں بھی کہیں گے کہ سلامتی اورامن سے جنت میں داخل ہوجائو۔چونکہ یہ لوگ ملائکہ کی نیکی کی تحریکات کو قبول کرتے ہیں اس لئے ملائکہ کو ان سے محبت اورانس ہو جاتا ہے۔اور وہ الٰہی فیصلوں کو جو مومنوں کے بارہ میں ہوتے ہیں۔دوڑ دوڑ کر انہیں سناتے ہیں اوریہ جو فرمایاسلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجائو اس میں دو سلامتیوں کو ذکر ہے۔اندرونی اوربیرونی۔کشمکش اوراضطراب سے نجا ت کی طرف سلام سے اشارہ کیاگیاہے اوربیرونی تکالیف اورعذابوں سے نجات کی طرف آمنین سے اشارہ کیا گیا ہے۔سَلَام کے لفظ سے اللہ کے ایک وعدے کی طرف اشارہ نیز سلام کے لفظ سے اللہ تعالیٰ کے ایک وعدہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو ان الفاظ میں ہے۔سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ(یٓس:۵۹) یعنے خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے خاص سلام مقدر ہے۔اس کی ہم تم کو خبر دیتے ہیں یہ فرشتوں کاکہنا ان کےمومنوں سے شدید تعلق پر دلالت کر تاہے گویا وہ الٰہی فیصلوں کو ان تک جلد سے جلد پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کاحکم نازل نہ ہو۔انسان کو امن نصیب نہیں ہوتا۔اوراس شیطانی قول کی طر ف بھی اشارہ ہے کہ ہم مومنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے۔سوفرمایا باوجود ان کی کوششوں کے تم میرے برکتوں والے گھر میں آہی پہنچے۔