تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 318

سے جنت میںداخل ہوگا(ترمذی ابواب المناقب باب مناقب ابو بکر صدیقؓ)۔آیت لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ سے سورۃ بقرۃ کی ایک آیت کا حل اس جگہ جُزْئٌ کالفظ استعمال کیا گیا ہے اوراس کے معنے انسانی جسم کے ٹکڑے کے نہیں بلکہ دوزخیوں کی جماعت کے مختلف گروہ مرا د ہیں۔اس آیت سے سورئہ بقرہ کی اس آیت کا حل ہو جاتا ہے۔جو حضر ت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ چار پرندے لے لے اورپھر فرمایا کہ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا (البقرۃ:۲۶۱) پھر ہر پہاڑ پر ان میں سے ایک جزو کو رکھ دے اس جگہ مفسرین نے غلطی سے یہ معنے کئے ہیں کہ ان کو ٹکڑے کر کے ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے (تفسیر بغوی زیر آیت رب ارنی کیف تحی الموتی)۔حالانکہ چار پرندوں کے اجزاء سے وہی مراد ہے جو اس جگہ مراد ہے یعنے ان میں سے ایک ایک پرندہ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے۔اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍؕ۰۰۴۶ متقی (لوگ )یقیناً باغوں اورچشموں (والے مقام )میں ہوں گے۔حل لغات۔الجنَّۃ الجنۃکے لئے دیکھو سورئہ رعد آیت نمبر ۲۴۔تفسیر۔متقیوں کے جنات اور عیون میں ہونے کا مطلب عَیْن کے معنے چشمہ کے ہیں اورعُیُوْن میں ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ چشموں کے اند رپڑے ہو ں گے بلکہ جنّٰت اورعیون کے اکٹھے ذکر سے یہ بتایا ہے کہ متقی ایسی جنت میں ہو ں گے جو چشموں والی ہوگی۔اس آیت میں بتایا ہے کہ جہاں شیاطین کو کفرکرنے کی وجہ سے جہنم نصیب ہوگی۔ا س دنیا میں جلن حسر ت اورپھر عذاب کی صورت میں اورآخر ت میں عذاب النا ر کی صورت میں وہاں مومن خدا تعالیٰ کے سایہ کے نیچے ہو ںگے اورعلوم کے چشمے ان کے دلوں سے پھوٹ رہے ہوں گے جن کی وجہ سے فضل کاسایہ اور بڑھے گا۔جس طرح درخت کو پانی ملتا رہے تووہ بڑھتا رہتاہے اورآخرت میں وہ جنَّات و عیون نصیب ہوں گے جن کاوعدہ قرآن کی متعدد آیات میں دیاگیاہے۔