تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 320

وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ اور ان کے سینوں میں جو کینہ (وغیرہ)بھی ہوگا اسے ہم نکال دیں گے (وہ)بھائی بھائی بن کر (جنت میں رہیں گے مُّتَقٰبِلِيْنَ۰۰۴۸ اور)تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے (بیٹھے )ہوں گے۔حلّ لُغَات۔غِلٌّ غِلٌّ غَلََّّ کا مصدر ہے اور غَلَّ صَدْرُہُ غِلًّا کے معنے ہیں۔کَانَ ذَاغِشٍّ اَوْ حِقْدٍ وَضِغْنٍ۔سینہ میں کینہ حقد اورغصہ بھر گیا۔اورالْغِلُّ کے معنے ہیں الغِشُّ وَالْحِقْدُ کینہ اورحقد (اقرب) پس نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ ٍّ کے معنے ہوں گے کہ ہم ان کے دلوں سے کینہ وغیرہ نکال دیں گے۔سُرُرٌ۔سُرُرٌسَرِیْرٌ کی جمع ہے اورالسَّرِیْرُ کے معنے ہیں التَّخْتُ تخت۔وَیَغْلِبُ عَلَی تَخْتِ الْمَلِکِ اوراکثر بادشاہ کے تخت پر بولاجاتا ہے یقَالُ’’ زَالَ عَنْ سَرِیْرِہٖ اَیْ ذَھَبَ عِزُّہُ وَنِعْمَتُہُ‘‘ اورجب زَالَ عَنْ سَرِیْرِہٖ کامحاورہ بولیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس کی عزت جاتی رہی۔اَلْمُلْکُ بادشاہت اَلنِّعْمَۃُ نعمت۔خَفْضُ الْعَیْشِ۔خوب مزے کی زندگی۔(اقرب) تفسیر۔دنیا میں جو مومن بھائی کا بغض دل سے نکال دے وہی جنتی بن سکتا ہے ایک اورجگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ(الرحمٰن :۴۷) کہ مومن کو دوجنتیں ملتی ہیں ایک اسی دنیا میں اوردوسری اگلے جہان میں۔اس جگہ پر جنت کی شرط یہ بتائی کہ وہاں دلوں میں غل نہ ہوگا۔پس اس دنیا میں جو مومن بھائی کابغض دل سے نکال دے وہی جنتی بن سکتاہے۔احمدیہ جماعت اور تمام مسلمانوں کو نصیحت اس سے ہماری جماعت اور تمام مسلمانوں کو فائدہ اٹھاناچاہیے کہ کسی کا کینہ دل میں نہ رکھیں۔عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ کہہ کر بھی ان کی باہمی محبت کااظہار کیاہے کیونکہ جب محبت ہوتی ہے تبھی ایک دوسرے کاچہرہ دیکھتے ہیں اورایک دوسرے کی طرف منہ کرکے بیٹھتے ہیں۔عَلٰى سُرُرٍسے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر شخص ہی وہاں بادشاہ ہوگا سُرُرٌپر قرآن مجید نے بہت زوردیا ہےاور مختلف مواقع پر مختلف الفاظ میں یہ مضمون بیان ہواہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ہر شخص ہی وہاں بادشاہ ہو