تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 317

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِيْنَ۫ۙ۰۰۴۴ اوریقیناً جہنم ان سب کے (لئے )وعدہ کی جگہ ہے۔لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ١ؕ لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌؒ۰۰۴۵ اس کے سات دروازے ہیں (اوراس کے )ہردرواز ہ کے لئے ان میں سے ایک مقرر حصہ ہوگا۔حل لغات۔جَھَنَّمَ جَھَنَّمَکے لئے دیکھو سورئہ رعد آیت نمبر ۱۹۔دَارُ الْعِقَابِ بَعْدَ الْمَوْتِ (اقرب) موعد مَوْعِدٌکے معنی ہیں وعدہ۔اقرار۔وعدے کی جگہ (اقرب) تفسیر۔دوزخ کے نگرانوں کی تعداد انیس بیان کرنے کا مطلب قرآن کریم میں دوزخ کے نگرانوں کی تعد ادانیس بیان فرمائی ہے (المدثر:۳۱)۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے نو حواس ہیں(گوعام طورپر پانچ مشہو رہیں لیکن درحقیقت سردی گرمی اوروقت اوروزن کاانداز ہ کرنے والے حواس کو ملایاجائے تو نو حواس ہوتے ہیں)پس یہ تعداد ان حواس کو مدنظر رکھتے ہوئے ہے۔یعنی نو ظاہر ی حواس اورنو باطنی حواس اور ایک ان پر داروغہ۔یہ کل انیس ہوئے۔جب انسان اٹھارہ حواس اوران کی نگران قوت ارادی سے کام نہیں لیتا۔تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے۔پس اس نسبت سے اس پردوزخ میں انیس پہر ہ دار مقرر کئے جائیں گے۔یہ بتانے کے لئے کہ تونے انیس طاقتوں کو غلط استعمال کیا۔دوزخ کے سات دروازے کہنےسے مراد اوریہ جوسات دروازے بتائے ہیں۔ان سے مراد ضرور ی نہیں سات ہی دروازے ہوں۔کیونکہ سات اور ستر کا ہندسہ عربوں میں تکمیل یاکثرت کے اظہارکے لئے بھی استعمال ہوتاہے(مفردات امام راغب زیر مادہ سبح)۔اس محاورہ کے رو سے دوز خ کے سات دروازے ہونے سے یہ مراد ہے کہ اس کے کثرت سے دروازے ہوں گے اور تمام گناہوں کاخیال رکھاجائے گا۔جہنم کے مختلف دروازے مختلف رنگوں کے لحاظ سے ہیں اور لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ جو فرمایا تواس کے یہ معنے ہیں کہ جس قسم کے گنا ہ ہوں گے ویسے ہی دروازہ سے وہ جہنم میں داخل ہوگا۔جنت کے متعلق بھی احادیث میں آتا ہے کہ مختلف نیکیوں کے الگ الگ دروازے ہوں گے اورہرشخص اپنی مناسب حال نیکی کے راستہ