تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 314
لَاُغْوِيَنَّهُمْمیں وہی کوشش مراد ہے جو انبیاء کے دشمن کرتے چلے آئے ہیں اور یہ جو فرمایا لَاُغْوِیَنَّھُمْ میں ضرور انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔یہ وہی کوشش ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں حضرت شعیب کے ذکر میں آیا ہے کہ ان کے دشمنوں نے کہا کہ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَااَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا(الاعراف:۸۹) یعنی اے شعیب ہم تجھے بھی اورتیرے ساتھ ایمان لانے والوں کوبھی اپنی بستی سے نکال دیں گےیاتم کو واپس ہمارے دین میں آنا پڑے گا۔اورسورئہ ابراہیم میں فرمایا۔وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَااَوْلَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا (ابراہیم :۱۴) گویا ہرایک رسول کے دشمن یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ ہم کو ایمان نہیں ملا تومومنوں کوبھی گمراہ کرکے چھوڑیں گے اوریہی وہ حالت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی تھی۔جس کی نسبت فرماتا ہے وَیُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوْاالسَّبِیْلَ (النساء:۴۵)یعنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن یہود چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو بھی مرتد کردیں۔اسی طر ح کفار کی نسبت آتاہے وَلَایَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ حَتّٰی یَرُدُّ وْکُمْ عَنْ دِیْنِکُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا(البقرۃ:۲۱۸)یعنے کفار کا اگر بس چلے تویہ اس وقت تک تم سے لڑتے رہیں گے کہ تم کو مرتد کرلیں۔یعنے یہ توتم کو اپنے جیسابنانے کے لئے پورازورلگائیں گے مگر ایک دن اللہ تعالیٰ ہی ان کے زورکو توڑ دے گا۔اوریہ مغلوب ہوجائیں گے۔لَاُغْوِیَنَّھُمْکے ماتحت احمدیوںکی مخالفت یہی نظارہ آج کل احمدیوں کو دیکھناپڑ رہاہے۔سب دنیا انہیں مرتد کرناچاہتی ہے مگر جسے خدارکھے اسے کون چکھے۔کفر بھی کیسااندھاہوتاہے۔بجائے اپنے پر ناراض ہونے کے کہ دین الٰہی کو کیوں چھوڑا۔کافر خدا تعالیٰ پر ناراض ہوتاہے کہ اس نے مجھے کیوں ایمان نہ بخشا۔اس لئے میں اس کے مومن بندوں کو بھی مرتد کرکے چھوڑوں گا۔العیاذ باللہ۔اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ۰۰۴۱ سوائے ان میں سے تیرے برگزیدہ بندوں کے (جو میرے فریب میں نہیں آسکتے) قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيْمٌ۰۰۴۲ فرمایا (کہ)یہ (حفاظت الٰہی)میری طرف (آنے کی ) سیدھی را ہ ہے۔تفسیر۔آیت هٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ کے دو معنی پہلے کہاتھاکہ جو بند ے چنے ہوئے ہوتے