تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 315
ہیں۔وہ شیطانی تصرف سے بچ جاتے ہیں۔اب اس کی تشریح کی کہ مخلص بندے کس طرح بنتے ہیں۔اوراس کاطریق یہ بتایا کہ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ یعنے اس راستہ کابتانا میرے ذمہ ہے۔هٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّسے مراد الہام سے راستہ بتانا ہے میں الہام سے انہیں اپناراستہ بتائوں گااور جب الہام سے میں انہیں اپناراستہ بتائوں گااوروہ سیدھے میری طرف آئیں گے توشیطان کی طرف جو خدا تعالیٰ سے دورپھینکا ہواہے وہ جاہی نہیں سکتے۔ان معنوں کے روسے صِرَاطٌ عَلَيَّ کے معنے ہوتے ہیں۔صَرَاطٌ بَیَانُہُ عَلیََّّ یہ وہ راستہ ہے جس کابیان کرنا میر اکام ہے۔یعنے مخلص بندے وہ نہیں جو اپنی عقلوں سے خدا کارستہ دریافت کرنے کی کوشش کریں۔جوعقل پر انحصار کرتاہے شیطان کے قبضہ میں جاتاہے۔لیکن جسے میں خود راستہ بتائوں وہ کسی صورت میں شیطان کے اثر کے نیچے نہیں آسکتا۔کیونکہ اس کامحافظ اورنگران میں ہوتاہوں۔اوروہ سیدھا بغیر ادھر ادھر بھٹکنے کے میری طرف آجاتاہے۔دوسرے معنے اس آیت کے یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جو مخلص ہو ں یعنے چنے ہو ئے ہوں وہ توفورًا ہی مجھ کو پالیتے ہیں اوران کی بعد کی زندگی میری تلاش میں نہیں گزرتی اوروہ اس راستہ پر نہیں چل رہے ہوتے جو میری طرف آتاہے کہ گمراہی کا خطرہ ہو۔اورشیطان انہیں میرے تک پہنچنے سے پہلے ہی اُچک لے جب وہ میر ے الہام سے مجھ کو پالیتے ہیں توان کی بعد کی زندگی اس راستہ پر چلنے پر گزرتی ہے جو میرے اوپر سے گذرتا ہے یعنے میراوصال تو وہ پہلے ہی پالیتے ہیں ان کی بقیہ زندگی ایک کے بعد دوسر ی صفات الٰہی کو حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہوتی ہے۔ایسے اشخاص کے متعلق شیطان کی کیا مجال کہ ان کے قریب بھی آسکے۔اس میں یہ نکتہ بتایا کہ گمراہی کاخطرہ ا سے ہوتاہے جو ابھی تلاش میں ہو۔جسے خدامل گیا اورجو خداکے ملنے کے بعد صرف زائد قرب کی تلاش میں لگاہواہوتاہے اسے گمراہ کرنا کسی شیطان کی طاقت میں نہیں۔آنکھوں دیکھی بات اورتجربہ کردہ طریق کے بعد کوئی شخص منکر ہوہی کس طرح سکتاہے؟