تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 313

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَ اس نے کہا (کہ) اے میرے رب چونکہ تونے مجھے گمراہی والا ٹھہرایاہے میں ضرور ہی ان کے لئے (تیری)ساری لَاُغْوِيَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۴۰ زمین میں (گمراہی کو) خوبصورت کرکے دکھائوںگا اورضرورہی ان سب کو گمراہ کردوںگا۔حلّ لُغَات۔اَغْوَیْتَنِیْ۔اَغْوَیْتَنِیْ اَغْوٰی سے مخاطب کاصیغہ ہے۔اَغْوَاہُ کے معنے ہیں اَضَلَّہُ اُسے گمراہ قراردیا یاگمراہ کیا۔وَغَوَیَ وَغَوِیَ الرَّجُلُ ضَلَّ گمراہ ہوگیا (اقرب) پس اَغْوَیْتَنِیْ کے معنے ہوں گے تونے مجھے گمراہ قرار دیا۔تفسیر۔یہ بھی زبانِ حال کاکلام ہے یعنی وہ لوگ جو ابتداء میں ایما ن نہیں لاتے بعد میں اس غصہ سے کہ ہمیں شروع میں ایمان لانے کاموقع نہیں ملا۔انبیاء کی جماعتوں کو تباہ کرناچاہتے ہیں اورانہیں تکالیف دے کر مرتد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جیسے کہ دوسری جگہ فرماتا ہے۔تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَآىِٕهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ (الاعراف:۱۰۲) یعنے اے محمدؐ ! یہ وہ بستیاں ہیں جن کاحال ہم نے تجھے سنایاہے۔ان کے پاس ہمارے رسول دلائل لے کر آئے۔مگر وہ ایمان لانے سے محروم رہے۔صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے شروع میں ان کے دعویٰ کا انکار کردیاتھا۔اللہ تعالیٰ اسی طرح ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگادیتاہے۔جو انبیاء کا انکار کردیتے ہیں۔آئمۃ الکفر کے ایمان نہ لانے کی وجہ ا س آیت میں بتایا ہے ائمۃ الکفر اس وجہ سے ایمان سے محروم رہ جاتے ہیں کہ شروع میں انکارکر بیٹھتے ہیں۔پھر ایمان لانے میں اپنی ذلت محسوس کرتے ہیں اورمخالفت میں بڑھ جاتے ہیں اوراپنا غصہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرکے نکالتے ہیں۔قرآن مجید کا انبیاء کے دشمنوں کی کوششوں کی طرف اشارہ اوراسی مضمون کی طر ف اس سورۃ کے شروع میں بھی اشارہ کیا ہے جہاں فرمایا ہے۔رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ کَانُوْا مُسْلِمِیْنَ (الحجر : ۳)یعنے بہت دفعہ کفار کے دل میں حسرت پیداہوتی ہے کہ کاش ہم شروع میں ایمان لے آتے۔اورہماری عز ت قائم رہتی مگر چونکہ انکار کرکے عزت کےمقام کوکھوچکے ہوتے ہیں۔باوجود اس حسرت کے ایمان لانے سے گریزکرتے ہیں۔اورضد میں بڑھتے جاتے ہیں۔