تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 312

اُٹھو اوردنیا پر چھا جائو۔اس وقت ان کے مخالف زبد یعنے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔بلکہ ان میں سے بہت ایمان لاکر ان کے حلقہ بگوش ہوگئے ان معنوں کے روسے بھی شیطان کامکالمہ مہلت کے متعلق ایک تصویری نقشہ ہے اوراس کے یہ معنے نہیں کہ نبیوں کے زمانے میں شیطان مہلت مانگتے ہیں اوران کوخدا تعالیٰ مہلت دیتا ہے۔بلکہ یہ معنے ہیں کہ شیطان د ل سے خواہش کرتے ہیں کہ نبیوں پر حملہ کریں اورانہیں کچل دیں اور اللہ تعالیٰ ان کی اس خواہش کوپوراہونے دیتاہے۔مگریہ مہلت یوم بعث تک ملتی ہے۔جب یوم بعث آتاہے تومہلت ختم ہوجاتی ہے اور سب اوندھے منہ گرجاتے ہیں۔اوراپنی تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَۙ۰۰۳۸اِلٰى يَوْمِ فرمایاتومہلت پانے والوں میں سے ہے(ہی) الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۰۰۳۹ معین وقت (کے آنے)کے دن تک تفسیر۔یعنی بے شک تم کو مہلت ملے گی۔مگروقت ِ معلوم تک۔یعنی اس وقت تک کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر نے نبیوں کی ترقی کو روکاہواہوگا۔جب ان کی ترقی کا زمانہ آئے گاتویہ مہلت ختم ہوجائے گی اوراے شیطانو!(یعنی نبی کے بڑے دشمنو)خدا تعالیٰ کے قہر ی نشان تم کو بھسم کردیں گے۔یہ یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ وہی ہے۔جس کی نسبت اس سورۃ کے شروع میں آچکا ہے وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ(الحجر:۵)یعنی ہربستی جس نے نبیوں کامقابلہ کیا اورہم نے اسے ہلاک کیا اسے پہلے ہی دن ہلاک نہیں بلکہ ہرنبی کے کام کے مطابق اس کی قوم کو ایک وقت تک مہلت دی۔کسی کو تھوڑی کسی کولمبی۔کسی کو اس نبی کی حین حیات میں تباہ کیا جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اورموسیٰ علیہ السلام سے ہوا۔اور کسی دشمن قو م کو نبی کی وفات کے بعد ہلاک کیا۔جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا۔