تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 311
بعثت روحانی نہ ہو۔اس وقت تک مجھے مہلت دے۔یعنے جب تک انسان اللہ تعالیٰ کے مخلص بندوں میں شامل ہوکر شیطانی حملوں سے محفوظ نہ ہوجائے اس وقت تک شیطان اوراس کی ذریت کو ان کے ورغلانے کاموقعہ ملتارہے یہ کلام بھی زبانِ حال کی قبیل سے ہے۔ورنہ یہ نہیں کہ شیطان نےیا اس کے اظلال نے واقع میں اللہ تعالیٰ سے لفظوںمیں اس طر ح کی مہلت طلب کی ہو۔یوم بعث سے مراد روحانی بعث ہے اس امر کاثبوت کہ یوم بعث سے مراد روحانی بعث ہے نہ کہ حشر اجساد یہ ہے کہ اس جگہ موت تک نہیں فرمایا۔بلکہ یوم بعث تک فرمایا ہے اوریہ ظاہر ہے کہ حقیقی یوم البعث تک موقع ملنے کے کوئی معنے ہی نہیں۔کیونکہ مرنے کے بعد توعالم امتحان ختم ہو جاتا ہے۔یہ توکسی مذہب کابھی عقیدہ نہیں کہ مرنے کے بعد بھی شیطان اورملائکہ لوگوں کو نیکی کی طرف لاتے یابدی کی تحریک کرتے ہیں۔پس اگر یوم بعث سے یہاں حشر اجساد مراد لیاجائے تویہ آیت قرآنی تعلیم اورعقل سلیم کے مخالف ہوجاتی ہے۔پس ہر عقلمند یہ ماننے پر مجبورہوگا کہ یہاں یوم بعث سے مراد روحانی بعث ہے اورمطلب یہ ہے کہ اسی وقت تک شیطان یا شیطانی لوگ کسی کو گمراہی کاسبق دے سکتے ہیں جب تک اس کا روحانی بعث نہ ہو یادوسرے لفظوں میں نفس مطمئنہ نہ ملاہو۔روحانی بعث کے بعد شیطان مایوس ہو جاتا ہے جب نفس مطمئنہ مل جائے تو پھر شیطان اوراس کی ذریت اس بندے سے مایوس ہوجاتی ہے اورورغلانے کے طریقہ کو چھوڑ کر اسے جسمانی دکھ دینا شروع کردیتی ہے۔یوم بعث سے مراد انبیاء کی کامیابی کا زمانہ دوسرے معنوں کے روسے یعنے آدم اوران کے حقیقی جانشین یعنے انبیاء کو مدنظر رکھتے ہوئے ا س آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ شیطان اوراس کے اَتباع کو اس وقت تک ان کے کاموں پر نکتہ چینی کاموقع ملتاہے اوران کے کاموں میں روک پیداکرنے کی طاقت ہوتی ہے جب تک ان کا یوم بعث نہیں آتا۔یعنی ان کی کامیابی کے لئے جو زمانہ مقدرہے وہ نہیں آجاتا۔کامیابی کے زمانہ کے آنے تک شیطانی لوگ خوب ان پر حملے کرتے ہیں اورانہیں دکھ دیتے ہیں اور ان کے خلاف جھوٹے الزامات لگاتے ہیں یعنے استراق سمع اورمَنْ خَطِفَ الْخَطْفَۃ کی بتائی ہوئی ڈھیل کے ماتحت ان کی تعلیم پر اعتراض کرتے اورجھوٹ بولتے ہیں۔لیکن جب ان کایوم بعث آتاہے یعنی انہیں غلبہ اوراقتدار ملنا شروع ہو جاتا ہے توپھر شیطان جھاگ کی طر ح بیٹھ جاتے ہیں۔آدم کے زمانہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک ایسا ہی ہوتاچلاآیاہے۔اور اللہ تعالیٰ کی حکمت شیاطین کو خوب شور مچانے اور طرح طرح کے مکر اورحیلے کرنے کی مہلت دیتی رہی ہے لیکن جب بھی یوم بعث آیا اورخدا تعالیٰ کی آواز نے اپنے نبیوں اوران کی جماعت کو آواز دی۔کہ اب تمہاراامتحان ختم ہوااب