تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 307
نسانوں کے لئے ہے یہ ہے۔کہ سورہ جاثیہ ع۲میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَسَخَّرَلَکُمْ مَّافِیْ السَّمٰوٰتِ وَمَافِیْ الْاَرْضِ جَمِیْعًا۔(جاثیہ:۱۴) کہ اے انسانو!تما م چیزیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری خدمت میں لگادی ہیں۔قرآن مجید سے پتہ چلتاہے کہ کہ ہرشے کےلئے ملائکہ سبب اول ہیں۔پس جب فرمایا کہ تمام چیزیں انسانوں کے فائدہ کے لئے مسخرکردی گئی ہیں۔تواس سے یہ نتیجہ نکلاکہ فرشتے تمام بنی نوع انسان کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ہاں! بعض اشیاء انسان کی غلطی سے اس کے قبضہ سے نکل کر اس کو نقصان پہنچانے لگ جاتی ہیں۔اوروہ گویا شیطان کی اظلال ہوتی ہیں اورفرشتوں کے حکم سے باہر ہوجاتی ہیں۔اگر شیطان کوئی مرئی وجود تھا تو اب کیوں نظر نہیں آتا یہ خیال کہ اس غیر مرئی شیطان نے ظاہر ہو کر آدم کا مقابلہ کیا بالبداہت غلط ہے اورتجربہ کے خلاف ہے۔کیونکہ قرآن کریم سے معلو م ہوتا کہ و ہ آدم اوراس کی بیو ی کے پاس آیا۔اوران سے اس نے باتیں کیں (الاعراف :۲۱۔۲۲)۔اب اگر یہ وہی شیطا ن تھا۔جو محرّک بدی ہے۔توجن آنکھوں سے اُسے آدم نے دیکھاتھا۔اورجس زبان سے آدم نے اس سے باتیں کی تھیں۔انہی آنکھوں اوراسی زبان سے اب آدم کی اولاد کیوںاسے نہیں دیکھتی۔اورکیوں اس سے باتیں نہیںکرسکتی۔اورکیوں و ہ اب بھی لوگوں کے پاس آکر انہیں ورغلاتا نہیں؟قرآن کریم سے ہرگز ثابت نہیں کہ آدم کاجسم اورقسم کاتھا۔اوراس کی اولاد کااورقسم کا ہے۔کہ یہ سمجھا جائے کہ آدم تواسے دیکھ سکتا تھا۔اورباتیں کرسکتاتھا۔مگر اس کی اولاد ایسا نہیں کرسکتی۔اورجب ابناء آدم ویسی ہی طاقتیں رکھتے ہیں جس قسم کی آد م رکھتے تھے۔اورشیطان بھی وہی ہے بدلانہیں۔تویقیناً آج بھی ہزاروں آدمیوں کووہ نظر آناچاہیے تھا۔اورہر اک نیک آدمی کو اسے ظاہری جسم کے ساتھ ملناچاہیے تھا۔تاکہ آدم کی طرح اسے بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرے۔مگر لاکھو ں چھو ڑ ہزاروں بھی آدمی نہیں ملتے جو اس امر کی گواہی دیں۔بلکہ سینکڑوں بھی نہیں۔بلکہ دسوں بھی نہیں بلکہ ایک بھی نہیں جویہ کہتا ہو کہ کشف یا خواب کے سوا اس نے شیطان سے مل کر باتیں کی ہوں۔سوائے قصے اورکہانیوں کے جو بے ثبوت ہیں۔لیکن وہ شیطان جس کامیں نے ذکر کیا ہے اسی طر ح ہرنبی کے راستہ میں مشکلات پیداکرتاہے۔جس طرح اس نے آدم کے وقت میں کیاتھا۔اوراسی طرح اباء اوراستکبار کرتاہے جس طرح آدم کے وقت میں اباء و استکبار کیاتھا۔بلکہ ہر راستباز سے اس کا ویسا ہی سلوک ہوتاہے۔