تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 308
قَالَ يٰۤاِبْلِيْسُ مَا لَكَ اَلَّا تَكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَ۰۰۳۳ (اس پر خدا تعالیٰ نے )فرمایا(کہ )ا ے ابلیس تجھے کیا ہواہے کہ تو(اس کی )کامل فرمانبرداری اختیارکرنے والوں قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ کے ساتھ نہیں ہوتا۔اس نے کہا(کہ)میں ایسانہیں کہ ایک ایسے بشر کی کامل فرمانبرداری اختیارکروں جسے تونے حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ۰۰۳۴ آواز دینے والی مٹی سے یعنی ایسےسیاہ گارے سے جس کی ہیئت تبدیل ہوچکی تھی پیدا کیاہے۔تفسیر۔لَمْ اَکُنْ لِّاَ سْجُدَ بھی تمثیلی زبان میں کلام ہے مخالفین آدم کے سردار نے کہا کہ یہ توذلیل وجود ہے کہ اطاعت کو اچھاقراردیتاہے۔یہ اوراس کے اتباع تو نقال ہیں اوردوسروں کے پیچھے چلنے میں فخر محسو س کرتے ہیں لیکن میری طبیعت میں تو نے آزادی اورحریّت رکھی ہے۔میں اس کی بات کس طرح مان سکتاہوں یہ بھی تمثیلی زبان میں کلام ہے۔مطلب یہ کہ آدم کے نظام کو اس کے بڑے دشمن اوراس کے اَتباع نے حریت ضمیر کے خلاف سمجھا۔اوراپنی ہتک قرار دیا۔اوراس کے ماننے سے انکار کیا۔اوراپنے رویہ کو آدم کے طریق سے بہتر قرار دیا۔اسی مضمون کو طینی اورناری طبیعت کے الفا ظ سے بیا ن کیاگیاہے۔قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِيْمٌۙ۰۰۳۵ فرمایا(اگرتیرایہ خیال ہے )تَوتُو اس (مقام)سے نکل جا۔کیونکہ تو یقیناً دھتکاراہواہے۔حل لغات۔رَجِیْم کے لئے دیکھو سورئہ حجرآیت نمبر ۱۸۔تفسیر۔فَاخْرُجْ مِنْهَامیںمِنْهَا سے مراد جنت نہیں مِنْہَا سے مراد مفسرین جنت لیتے ہیں (تفسیر البغوی و القرطبی ، سورة الحجرزیر آیت ھذا) لیکن سوال یہ ہے کہ اگر وہ جنت اس سے مراد ہے جو مرنے کے بعد ملنی ہے تووہ ایسا مقام ہے کہ یہ اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔اورجو ا س میں داخل ہو۔اس سے نکالانہیں جاتا۔پھر شیطان کو کیونکراس میں داخل ہونے دیاگیا۔اورآدم کو اس سے کیونکر نکالاگیا؟اوراگر وہ جنت مراد نہیں۔