تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 26

مُتَعَال اس بڑائی پر دلالت کرتا ہے جو تنزہ والی ہوتی ہے۔یعنی اس کی ایسی ارفع شان ہے کہ بندوں سے واسطہ ہی نہیں رہتا۔پس جو رفعت استغناء پر دلالت کرتی ہے وہ مُتَعَال کے لفظ سے بیان کی گئی ہے۔اور جو رفعت بندوں سے تعلق پر دلالت کرتی ہے اس کو الکبیر کے لفظ سے واضح فرمایا ہے۔ان دونوں کے اس جگہ پر ذکر کرنے کی یہ وجہ ہے کہ یہ بتایا جائے کہ ہم کبیر ہیں۔تمہاری طاقتیں ہمارے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ہم تمہاری مخالف کوششوں کو بالکل ذلیل و حقیر بنا کر بیکار کر دیں گے یعنی جب چاہیں گے پیس ڈالیں گے اور ہم غنی ہیں۔تمہاری تباہی سے ہماری حکومت میں کوئی کمی نہ آوے گی۔تفسیر۔دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کا گر اس آیت میں یہ گر بتایا ہے کہ دشمن پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس کی تدابیر کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔اگر ہم اس کی کوششوں سے واقف ہیں تو ان کے اثر کو دور کرسکیں گے ورنہ ہر وقت خطرہ میں رہیں گے۔عٰلِمُ الْغَيْبِ کہنے کا مطلب عٰلِمُ الْغَيْبِ کہہ کر بتایا کہ اے نادانو! اتنا تو سوچو تمہارا مقابلہ کس ہستی سے ہے۔کیا اس خدا سے کہ جو تمہاری تدبیروں کو جانتا ہے اور پھر وہ کبیر ہے۔تمہاری تمام تدابیر کو ایک منٹ میں توڑ کر رکھ سکتا ہے۔پھر اس کی شان تمہارے علم سے نہایت ارفع ہے۔یعنی وہ تمہاری تدابیر کو جانتا ہے اور تم کو علم نہیں کہ وہ تمہارے ہلاک کرنے کے کیا کیا سامان کررہا ہے؟ پس غور کرو کہ کیا تم ایسی ذات کا مقابلہ کرسکتے ہو! کبیر کے لفظ سے ان کی تدابیر کے توڑنے پر دلالت کی ہے۔اور متعال سے بتایا کہ تم خدا کی تدابیر سے واقف نہیں ہوسکتے۔پھر اسی کی تشریح میں آگے فرمایا۔سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ جو تم میں سے بات چھپاتا ہے اور وہ بھی جو اسے ظاہر کرتا ہے( اس کے علم کے لحاظ سے دونوں) برابر ہیں نیز وہ بھی جو مُسْتَخْفٍۭ بِالَّيْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ۰۰۱۱ رات کو چھپ رہتا ہے اور جو دن کو چلتا ہے۔حلّ لُغَات۔سَارِبٌ۔سَرَبَ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔اور سَرَبَ الْبَعِیْرُ سُرُوْبًا کے معنی ہیں تَوجَّہَ لِلرَّعْیِ۔اونٹ چرنے کے لئے گیا۔( اِبِلٌ سَارِبَۃٌ) مُتْوَجِّہَۃٌ لِلرَّعْیِ۔اور اِبِلٌ سَارِبَۃٌ ان اونٹوں کو کہتے