تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 27

ہیں جو چرنے کے لئے جارہے ہوں۔الْمَاءُ۔جَرٰی اور جب سَربَ الْمَاءُ کا فقرہ استعمال کیا جائے تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے پانی بہہ پڑا۔فُلَانٌ فِی الْاَرْضِ۔ذَھَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ فِیْہَا وَمَضَی اور جب سَرَبَ فُلَانٌ فِی الْاَرْضِ کہا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ زمین میں چلا۔(اقرب) تفسیر۔آنحضرت ؐ کے مقابل کفار کے دو طریق کفار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں دو ہی طریق استعمال کیا کرتے تھے۔کبھی پبلک میں دھمکیاں دیا کرتے تھے کہ ہم اس اس طرح آپؐ کو تباہ کر دیں گے تا آپؐ ڈر جائیں اور کبھی مخفی طور پر مشوروں اور منصوبوں کے ذریعہ سے آپؐ کو ہلاک کرنے کی کوششیں کرتے تھے۔کبھی آپؐ پر دن کو حملہ کرتے تھے۔جیسا کہ اوجھری کے سرپر ڈال دینے(بخاری کتاب الوضوء باب اذا القی علی ظھر المصلی قذر اوجیفۃ۔۔) یا آپؐ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کے واقعات میں اور کبھی رات کو حملہ کرتے تھے جیسا کہ ہجرت کی رات کو وہ حملہ آور ہوئے تھے۔اور دنیا میں دشمن کو خوف زدہ کرنے کے یہی دو طریق ہوا کرتے ہیں۔یعنی علی الاعلان دھمکیاں یا مخفی مشورے و منصوبے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقابلہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا مقابلہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپی نہیں رہ سکتی۔پھر تمہارے ظاہری اور مخفی حملے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ اس کی (یعنی اللہ کی) طرف سے اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے والی (ایک مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا ملائکہ کی )جماعت (حفاظت کے لئے) مقرر ہے جو اس کی اللہ کے حکم سے حفاظت کر رہے ہیں اللہ (تعالیٰ) کبھی بھی بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی اندرونی حالت کو نہ بدلے۔اور جب اللہ( تعالیٰ) کسی قوم کے