تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 25
اور قہر نئی نسل کو ایمان لانے سے روک نہ سکے۔یہ تدبیر بھی آپؐ کی ترقی کے لئے نہایت ممد ہوئی۔گو ابتداء ًاس کو جانچنے کے لئے کفار کے پاس کوئی سامان نہ تھے۔عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ۰۰۱۰ وہ غائب اور حاضر (دونوں) کا جاننے والا ہے بڑے مرتبہ والا (اور) بڑی شان والا ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْغَیْبُ۔یہ غَابَ۔یَغِیْبُ کا مصدر ہے۔اور غَابَتِ الشَّمْسُ وَغَیْرُھَا۔اِذَا اسْتَتَرَتْ عَنِ الْعَیْنِ۔غَابَ کا لفظ سورج کے لئے یا کسی اور چیز کے لئے اس وقت بولتے ہیں کہ جب سورج غروب ہوجاوے۔یا کوئی اور چیز آنکھوں سے اوجھل ہوجائے۔وَاسْتُعْمِلَ فِیْ کُلِّ غَائِبٍ عَنِ الْحَآسَّۃِ جو بات حواس سے بالا اور پوشیدہ ہو اس پر بھی غیب کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔اور شہادۃ کا لفظ غیب کے بالمقابل بولا جاتا ہے۔(مفردات) غیب اور شہادت کے دو معنی پس غیب اور شہادت کے دو معنی ہیں۔(۱) شہادۃ جو لوگ ظاہر کرتے ہوں۔اور غیب جسے وہ چھپاتے ہوں۔(۲)جو حواس ظاہری سے معلوم ہوسکے وہ شہادت ہے اور جو باتیں حواس سے بالا اور پوشیدہ ہیں، وہ غیب ہیں۔تو عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ تمہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم تمہاری ہر ایک تدبیر کو جانتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنے دشمن کی باتوں کو نہ جانتا ہو لیکن دشمن اس کی باتوں سے واقف ہو تو وہ انسان اس سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔پس تمہیں احتیاط کرنی چاہیے۔اَلْمُتَعَالُ۔تَعَالٰی۔اِرْتَفَعَ۔تَعَالٰی کے معنے ہیں بلند ہوا۔وَالْمُتَعَالُ۔رَفِیْعُ الشَّانِ۔بڑی شان والا۔اَلْکَبِیْرُ ذُ وْالْکِبْرِ۔کبیر کے معنے ہیں کبر والا۔اور کبر کے معنے ہیں اَلشَّرْفُ بزرگی اَلرِّفْعَۃُ فِی الشَّرْفِ۔شرف کے لحاظ سے رفعت اَلْعَظْمَۃُ وَالتَّجَبُّرُ۔عظمت و جبروت (اقرب) پس کبیر کے معنی ہوں گے بزرگی والا۔عظمت و جبروت والا۔شرف کے لحاظ سے رفعت والا۔کبیر اور مُتَعال میں فرق کبیر اور مُتَعال دونوں میں یہ فرق ہے کہ کبیر اس بڑائی پر دلالت کرتا ہے جس سے دوسروں پر اثر ڈالنے والی بلندی مراد ہو جیسے متکبر ہوتا ہے۔یعنی دوسروں کے مقابلہ میں بڑا بننا چاہتا ہے۔ایسا ہی کبیر میں خدا تعالیٰ کی وہ بڑائی مراد ہے جو بہ نسبت اس کی مخلوق کے ہے۔