تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 291
گنوایاتھا اوروے ایک لاکھ ترپن ہزار چھ سوٹھہرے۔اوراس نے ان میں سے ستر ہزارکو باربرداری پر اوراسی ہزار کو پہاڑ کے توڑنے پر مقرر کیا اوران پر تین ہزار اوورسیر مقرر کئے۔کہ ان لوگوں سے کام لیویں۔‘‘آیت ۱۷و۱۸۔ان آیات سے ظاہر ہے کہ مزدوری پر بھی غیرقوموں کے لو گ مقرر کئے گئے تھے۔اب جوکام اس صور کے انجینئر نے کیا۔وہ بائبل میں یہ لکھا ہے کہ اس نے ایک بہت بڑاہال عبادت کے لئے بنایا۔(محاریب)اوربڑے ہال کے اندرفرشتوں کے مجسمے دیواروں کے اند رکھود کر بنائے اوراسی طرح بڑے ہال میں بھی دوفرشتوں کے مجسمے تراش کر بنائے۔(تمثَال)( ۲تواریخ باب۳ آیت ۷و ۱۰ تا ۱۳)اورپھر باب ۴ آیت ۲و ۶ میں بتایا ہے کہ ایک بڑا حوض بنایا جودھاتوں سے ڈھالاہواتھا۔اوراس کے علاو ہ دس چھوٹے حوض بنائے (جِفَانٍ کَالْجَوَابِ)پھر اسی باب۴ کی آیت۱۵۔۱۶ میں لکھا ہے کہ حورام انجینئر نے جو باہر سے آیاتھا۔‘‘ اورایک بحر ( لفظی معنی سمند ر مراد بڑاحوض)اوراس کے نیچے بارہ بیل اوردیگیں اورپہاوڑے اورکانٹے اورسب ظروف جو حورام ابی نے سلیمان بادشاہ کی خاطر خداوند کے گھر کے لئے بنائے صاف پھول دھات کے تھے۔‘‘اس ایک آیت میں دیگوں(قُدُوْررَاسِیٰتٍ)حوضوں اورمجسموں کا ذکر اکٹھا آگیاہے۔حضرت سلیمان کی خدمت کرنے والے غیر ملکی اور غیر قوم کے لوگ تھے جن کو جنّ کہا گیا ہے غرض و ہ سب اشیاء جن کا ذکر اس آیت میں آیاہے حضرت سلیمان نے حورام ابی سے جو ایک غیر ملکی انجینئر تھا اورغیر ملکی مزدوروں سے بنوائی تھیں۔پس جنّ سے مراد محض غیر ملکی اورغیرقوم کے لوگ ہیں۔جن کو حضرت سلیما ن کے ساتھ کوئی دلچسپی نہ تھی۔صرف رُعب خداداد کی وجہ سے وہ آپ کے تصرف کے نیچے آئے ہوئے تھے اور آپ کاکام کرتے تھے جب آپ فوت ہوگئے۔توکچھ مدت تک تو آپ کی حکومت کارعب ان لوگوں کے دلوں پر رہا۔جب آپ کے لڑکے نے بعض نالائقیوں کی وجہ سے اس رعب کوضائع کردیا۔تو وہ لوگ پچھتائے کہ خوامخواہ ان کے لئے لکڑیا ں ڈھونے اور دوسرے ذلیل کاموں میں ہم کیوں لگے رہے ؟اوریہ ذلّت برداشت کی اگریہ حکومت اتنی جلدی فناہوجانی تھی۔توہم مقابلہ جاری رکھتے۔حضرت آدم ؑ کے زمانہ کے لوگوں کا نام قرآن کریم میں جن رکھا گیا ہے چوتھا استعمال جنّ کے لفظ کاقرآن کریم میں ان لوگوں کے متعلق ہے۔جو حضرت آدم کے زمانہ میں دنیا پر بستے تھے اورجن میں سے نکل کر حضرت آدم نے ایک نیا نظام قائم کیا تھا۔چونکہ آدم نظام کاقائم کرنے والاپہلا شخص تھا۔اس سے پہلے لوگ نظام کی قدرکو نہ جانتے تھے۔اورجانوروں کی طرح الگ الگ درختوں کی جڑوں میں یاغاروں میں رہتے تھے۔اورجنگلی