تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 292

درندوں کی وجہ سے سطح زمین پر آسانی سے چل پھر نہیں سکتے تھے۔ان کانام ان کی حالت کے مطابق جنّ رکھا گیا ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جن کو آجکل کے مؤرّخ CAVEMAN کہتے ہیں۔یعنی کھوہوں اور غاروں میں رہنے والے لوگ جو سطح زمین پر بودوباش نہ کرتے تھے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ CAVE)۔جب انسانی دماغ نے ترقی کی اورانسان الہام کی نعمت کے قبول کرنے کے قابل ہوگیا۔تواللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جسے اس نے آدم کاخطاب دیا کیونکہ وہ سطح زمین پر رہنے کے قابل ہوگیاتھا اورانسان کاخطاب دیا۔کیونکہ وہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کی محبت کے قابل ہوگیا تھاتودوسری طرف بنی نوع کے ساتھ ہمدردی کرنے اوران کے لئے قربانی کرنے کے قابل تھا۔اپنے الہام کے لئے چنا (دیکھو تفصیلی دلائل کے لئے میری کتاب سیر روحانی جلد اول) جنہوں نے اس کے نظام کو قبول کیا اوراس کے ساتھ مل گئے اورباہر نکل کر مکان وغیرہ بنانے لگے اور تمدّنی قوانین کی پابندی کو منظورکرلیا وہ آدمی کہلائے۔لیکن جنہوں نے وحشت کی زندگی کو ترک کرنے سے انکار کردیا۔اورغاروں کی زندگی کو حریّت قرار دیا۔ان کانام ان کے طرز رہائش کی وجہ سے جنّ قرار پایا پس جنّ بشری ترقی کے دو ر کے اس حصہ کے افراد کانام ہے۔جوتمدن سے عار ی تھے۔اورنظام کوقبول کرنے کے ناقابل تھے۔اورآدمی بشری ترقی کے دورکے اس حصہ کانا م ہے جس میں ایک جماعت نے مل کر رہنے اورایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے اورایک نظام کی پابندی کا اقرار کیا۔آئندہ کے لئے یہ دونام ان دوصفات کے ساتھ وابستہ ہوگئے اورجو لوگ نظام کے باغی ہوں۔ان کانام جنوں کی ذریت رکھا گیا۔اورجو نظام کے تابع ہوں ان کانام آدم کی ذریت رکھا گیا۔اب یہ دونوں نام صفاتی ہیں جس کی وجہ سے کبھی جنوں کی اولاد اصلاح کر کے آدمی ہوجاتی ہے اور کبھی آدمیوں یعنے پابندِ نظام لوگوں کی اولاد گندی اورنظام شکن ہوکر جنّ بن جاتی ہے۔رسول کریم کے زمانہ میں ایمان لانے والے دراصل یہودی تھے اب رہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا سوال کہ اس وقت جو جنّ ایمان لائے تھے وہ کیسی مخلوق تھی۔سو اس کے متعلق قرآن کریم سے ثابت ہے کہ وہ یہودی تھے کیونکہ وہ موسیٰ کی کتاب کا اوراس پر ایمان لانے کا ذکرکرتے ہیں۔پس معلوم ہواکہ وہ یہودی لوگ تھے (الاحقاف :۳۰۔۳۱)۔اللہ تعالیٰ نے ان کو جنّ اس لئے کہا ہے کہ وہ باہر کے لوگ تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخفی ملے تھے۔آنحضرت ؐ پر ایمان لانے والے جن نصیبین کے رہنے والے تھے اور رات کو آپ ؐ سے ملے تھے بعض احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ وہ نصیبین کے رہنے والے تھے اوررات کےوقت رسول کریم