تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 290

مراد ہیں اوربتایا ہے کہ اس زمانہ میں یورپ اورایشیا کے لوگ باہم مل جائیں گے۔اورسائنس کی بڑی ترقی ہوگی۔مگر بے دینی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب نازل کرےگا اورپھر اسلام کو قائم کرے گا۔جن اور الناس سے مراد ڈیماکرسی اور ڈکٹیٹرشپ ثقلان اورجنّ اورالناس سے مراد ڈیما کرسی اور ڈکٹیٹروں کی حکومت بھی ہوسکتی ہے۔کیونکہ جنّ کے معنے عربی لغت میں اکثریت کے بھی ہیں اورالناس کے معنے خاص آدمیوں کے بھی ہوسکتے ہیں(اقرب)۔پس جنّ سے مراد ڈیما کرسی ہے۔اورالناس سے مراد وہ لوگ ہیں جواپنے آپ کو خاص قرار دے کر حکومت کو اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ثقل کے معنے اعلیٰ اورمحفوظ شے کے ہوتے ہیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم اوراپنی اولاد کو ثقلان قراردیاہے۔پس الثقلان سے مراد یہ دونوں گروہ ہیں جو اس وقت ساری دنیا پر غالب ہوں گے بعض ڈیماکرسی کے نام پر دنیاکومغلوب کریںگے اوربعض فاشزم اورناٹزم کے نام پردنیا کو سمیٹنا چاہیں گے۔اور اپنے آپ کو سب دنیا سے بہتر قرار دیں گے۔قرآن مجید میں غیر قوموں اور غیر مذاہب کے لئے لوگوں کے جن کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس کے علاو ہ قرآن کریم میں غیرقوموں اورغیر مذاہب کے لوگوں کے لئے بھی جنّ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔مثلاً حضرت سلیمان کے ذکر میں جہاں جنّوں کا ذکرہے اس سے مراد غیر قوموں کے لوگ ہی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ ان جنوں کی نسبت فرماتا ہے کہ يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَ تَمَاثِيْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ (سبا:۱۴) وہ جنّ حضرت سلیمان ؑ کے لئے دربار کاکمرہ مسجد کامحراب اورمحل بناتے تھے اورمجسمے اوربڑے بڑے حوض جو کنوئوں کی طرح تھے او ر بہت بڑی بڑی دیگیں تیارکرتے تھے۔اب ہم بائبل میں دیکھتے ہیں کہ یہ کام حضرت سلیمان کے لئے کس نے کئے ہیں۔توہمیں ۲تواریخ باب۲۔۷ میں لکھا ملتاہے کہ جب حضرت سلیمان نے بڑی عبادت گاہ تعمیر کرنے کااراد ہ کیا۔توآپ نے صورکے بادشاہ کو خط لکھا کہ اپنے انجنیئروں میں سے میرے پاس ایک انجینئر بھجوائو’’جو سونے اورروپے اورپیتل اورلوہے اورارغوانی اورقرمزی اورآسمانی رنگوں کے کاموں میں ہوشیار اورنقاشی میں دانشمند ہو۔‘‘اسی طرح لکھا کہ وہاں کی لکڑی بھجوائو اورمیں لکڑی کاٹنے والوں کو اس اس قدر مزدوری دوں گا۔آیت ۱۰۔پھر آیت ۱۴ میں صورکے بادشاہ کا جواب ہے کہ ا س نے حضرت سلیمان کے کہنے پر ایک انجینئر حورام ابی نامی بھجوایا اورکہا کہ یہ سب فنون کاماہر ہے۔اورلکھا کہ لکڑی کاٹنے پر میں نے آدمی لگادیئے ہیں۔ان کی مزدوری بھجوادیں۔آیت ۱۵۔یہ تو غیر ملکی انجنئیرکا ذکرہے۔جو مزدور لگائے گئے ان کایوں ذکرآتاہے۔’’اورسلیمان نے اسرائیل کے ملک میں سارے پردیسیوںکو گنوایا بعد اس گننے کے جو اس کے باپ دائود نے