تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 24
لینے والے کو کہے ھَلْ تَزْدَادُ تو اس کے معنے ہوتے ہیں ھَلْ تَطْلُبُ زِیَادَۃً عَلی مَااَعْطَیْتُکَ کیا اس کے علاوہ جو تجھے دیا گیا تو اور زیادہ طلب کرتا ہے؟ پس مَاتَزْدَادُ کے معنے یہ ہوں گے کہ (اللہ خوب جانتا ہے) رحم اپنی مقررہ مدت ولادت میں جو زیادتی کرتے ہیں۔(اقرب) اَلزِّیَادَۃُ۔نیز اَلزِّیَادَۃُ جو زَادَ کا مصدر ہے اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ اَنْ یَّنْضَمَّ اِلٰی مَا عَلَیْہِ الشَّیْءُ فِیْ نَفْسِہٖ شَیْءٌ اٰخَرُ۔کہ جن عام حالتوں میں کوئی چیز پائی جاتی ہو اس پر بطور زیادتی کوئی اور چیز اس کے ساتھ مل جائے پس ان معنوں کے مدنظر مَاتَزْدَادُ کے یہ معنی ہوں گے کہ اللہ اسے خوب جانتا ہے جسے رحم اصل چیز میں بڑھاتے اور زیادہ کرتے ہیں۔(اقرب) مقدار کے معنےمیں’’ بڑا‘‘ کا لفظ تنوین کا ترجمہ ہے جو کبھی بڑے کے معنے دیتی ہے۔تفسیر۔پہلے بتایا تھا کہ ہم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید مخفی ذرائع سے کریں گے۔اسی کے ذکر میں یہ بھی بتایا تھا کہ تمام دنیا میں جوڑے پیدا کئے گئے ہیں۔حتیٰ کہ زمین و آسمان بھی گویا ایک قسم کے جوڑے ہیں۔ایک اثر ڈالتا ہے اور دوسرا اسے قبول کرتا ہے۔ایک مخفی ذرائع سے دوسرے کی حیات کو قائم رکھتا ہے اور دوسرا قائم رہتا ہے۔ایسا ہی روحانی سلسلہ میں بعض لوگ نرکا درجہ رکھتے ہیں اور بعض مادہ کا۔اول الذکر اثر ڈالتے ہیں اور ثانی الذکر قبول کرتے ہیں۔اب فرمایا کہ اس قانون کے ماتحت اب بھی ایک شخص کا ظہور ہوا ہے۔جو روحانی طور پر نر کا مقام رکھتا ہے جس سے تعلق کے بغیر کوئی روحانی درجہ حاصل نہیں ہوسکتا۔اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى کا مطلب اَللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى۔یعنی ہم جانتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن اپنے اندر کیا رنگ رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے اندر کون سے مادہ کو قبول کیا ہے۔روحانیت کا یا شیطنت کا۔اور یہ کہ کس کا مادہ بڑھے گا اور کس کا گھٹے گا؟ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک کو قبول کرنے والے ہیں وہ بڑھیں گے اور ان کے اندر اعلیٰ قابلیتیں پیدا ہوں گی۔اور جو آپؐ کے مقابل شیطانوں کے اثر قبول کررہے ہیں ان کی ظاہری اور باطنی نسل تباہ ہوگی۔مَا تَحْمِلُ سے ظاہری حمل بھی مراد ہو سکتا ہے ظاہری حمل بھی اس جگہ مراد ہوسکتا ہے اور اس صورت میں معنے یہ ہوں گے کہ ہمیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی آئندہ نسلیں کیا بننے والی ہیں۔آئندہ تمہاری عورتوں کے ہاں وہی اولاد ہوگی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گزار ہوگی۔آپؐ کی مخالف اولاد ضائع ہی ہو جائے گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مکہ کی نئی نسل کثرت سے آپؐ کے خدام میں داخل ہوئی۔اور بزرگ ان کو دیکھ دیکھ کر جلتے رہے۔ان کے ظلم