تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 23

َللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ وَ اللہ (خوب) جانتاہے اسے (بھی) جو ہر مادہ اٹھاتی ہے اور جسے رحم ناقص کر( کے گرا) دیتے ہیں اور( اسے بھی) مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ۰۰۹ جسے وہ بڑھاتےہیں اور ہر چیز ہی اس کے پاس ایک بڑے اندازہ میں موجود ہے۔حلّ لُغَات۔تَغِیْضُ غَاضَ ماضی سے مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے۔اور غَاضَ الْمَاءُ غَیْضًا کے معنی ہیں۔نَقَصَ۔پانی کم ہو گیا۔اَوْغَارَ فَذَھَبَ فِی الْاَرْضِ۔یا جذب ہو کر زمین کی تہ میں چلا گیا۔وَفِی الصِّحَاحِ : قَلَّ فَنَضَبَ اور صحاح میں غَاضَ الْمَاءُ کے یہ معنی کئے گئے ہیں کہ پانی کم ہوکر خشک ہوگیا۔ثَـمَنُ السِّلْعَۃِ۔نَقَصَ جب غَاضَ کا لفظ ثَمَن کے ساتھ استعمال ہو تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ سامان کی قیمت جو پہلے زیادہ تھی کم ہو گئی۔وَیُقَالُ غَاضَ الْمَاءَ وَالثَّمَنَ۔اور جب غَاضَ کا لفظ متعدّی ہوکر استعمال ہو اور اس کا مفعول اَلْمَآءُ اور اَلثَّمَنُ ہو تو یوں معنے کئے جائیں گے کہ سامان کی قیمت کو گرا دیا اور پانی کو کم کر دیا۔وَ مَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ۔اَیْ مَاتَنْقُصُ تِسْعَۃَ اَشْھُرٍ۔پس اقرب الموارد والے نے مَاتَغِیْضُ الْاَرْحَامُ کے معنے یہ کئے ہیں کہ (اللہ خوب جانتا ہے) رحم اپنی مقررہ مدت ولادت میں جو کمی کرتے ہیں۔نیز اَلْغَیْضُ جو غَاضَ کا مصدر ہے اس کے ایک معنی لغت میں یہ بھی کئے گئے ہیں اَلسِّقْطُ الَّذِیْ لَمْ یَتِمَّ خَلْقُہٗ۔کہ غیض اس بچے کو کہتے ہیں جس کی پیدائش ابھی مکمل نہ ہوئی ہو اور وہ ناقص ہونے کی حالت میں گر جائے۔پس غَیْض کے اس معنے کو ملحوظ رکھتے ہوئے مَا تَغِيْضُ الْاَرْحَامُ کے معنے یہ ہوں گے کہ اللہ اسے خوب جانتا ہے جسے رحم ناقص کرکے گرا دیتے ہیں۔(اقرب) تَزْدَادُ۔اِزْدَادَ ماضی سے مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور اِزْدَادَ، زَادَ سے بنا ہے جس کے معنے ہیں زیادہ ہو گیا۔یا زیادہ کر دیا۔اور اِزْدَدْتُّ مَالًا وَازْدَادَ الْاَمْرُ صُعُوْبَۃً کے معنے ہیں میں نے مال کو بڑھایا اور معاملہ پیچیدگی اور مشکل میں بڑھ گیا۔یعنی یہ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اور جب اِزْدَادَ الرَّاھِنُ دَ رَاھِمَ مِنَ الْمُرْتَھِنِ کا محاورہ بولا جائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اَخَذَ ھَا زِیَادَۃً عَلٰی رَأْسِ الْمَالِ کہ رہن رکھنے والے نے مُرْتَھِنْ سے اصل مال پر بطور نفع کچھ رقم زیادہ لی۔اور جب کوئی چیز دینے والا