تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 269
ہے ایمان کا دل سے تعلق ہے۔اور دل کے حالات اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔قرآن کریم کی حفاظت محض ظاہر ی علوم پر مبنی نہیں بلکہ قلبی طہارت سے تعلق رکھتی ہے اور اس کاعلم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے کہ کون نیکی میں بڑھا ہواہے اورکون نہیں۔پس یہ کام اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے جسے وہ مستقدم دیکھے گااس کے سپرد یہ کام کرے گااورجو قلبی طہارت میں مستاخر ہوں گے خواہ ظاہری علوم میں کتنے ہی زیاد ہ کیوں نہ ہو ں وہ ا س کا م کے اہل نہ سمجھے جائیں گے۔وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۶ اوریقیناً تیرار ب ہی انہیں جمع کرے گا وہ یقیناً حکمت والا (اور)بہت جاننے والا ہے حلّ لُغَات۔یَحْشُرُ۔یَحْشُرُحَشَرَ سے مضارع کاصیغہ ہے۔اورحَشَرَ النَّاسَ کے معنے ہیں۔جَمَعَہُمْ۔لوگوں کو جمع کیا۔وَیَوْمُ الْحَشْرِ۔یَوْمُ الْبَعْثِ وَالْمَعَادِ وَھُوَ مَأْخُوْذٌ مِنْ حَشَرَ الْقَوْمَ اِذَا جَمَعَـہُمْ۔اوریوم البعث کو یوم حشر انہی معنوں کی روسے کہتے ہیں کہ اس دن اگلے پچھلے لوگوںکو جمع کیا جائے گا۔وَالْحَاشِرُ اِسْمٌ مِنْ اَسْمَائِ نَبِیِّ الْمُسْلِمِیْنَ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ایک نام حاشر بھی ہے۔(اقرب) تفسیر۔حشر کے معنے حشر کے معنے جمع کرنے کے ہیںاورحشر انہی معنوں کے روسے بعث مابعد الموت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔کیونکہ اس دن اگلے پچھلے سب انسانوں کو جمع کیاجائے گا۔حشر کالفظ اس اجتماع کے لئے بھی بولاجاتاہے جو نبیوںکے ذریعہ سے اس دنیا میں ہوتاہے یعنی ساری قوم کو اختلاف اورجھگڑے سے نکال کر وحدت کی رسی میں پرودیاجاتاہے۔ہر نبی کے زمانہ میں حشر ہوا کوئی نبی نہیں آیا جس کے ذریعہ سے حشر نہ ہواہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے زمانہ میں دیکھو کیسا حشر ہواکہ مختلف الخیال لو گوںکو ایک کلمہ پر جمع کردیاگیااورپھر ساری دنیا میں پھیلا دیاگیا۔اس آیت میں دونوں حشرکی طرف اشارہ ہے۔دنیوی حشر کی طرف اس طرح کہ گوآج تیری قوم تیرے خلاف ہے۔لیکن ایک دن سب کو تیرے ہاتھ پر جمع کردیاجائے گا۔حکیم و علیم کی صفات سے یہ بتایاہے کہ فوری طورپر اس لئے جمع نہیں کیاگیا کہ یہ حکمت کے خلاف ہے۔فوراً لوگ اسی طرح جمع ہوسکتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر تصرف کرکے انہیں جبر کے ذریعہ سے مسلمان بنادیتا مگر اس کا کیا فائدہ تھا وہ لوگ جو اس طرح مسلمان ہوتے کسی انعام