تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 268

کہ پہلی کتب کی موجودگی میں قرآن کریم کی کیاضرور ت ہے؟ اوربتایا ہے کہ پانی کی موجودگی میں بادلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔بغیر آسمانی بارش کے زمینی پانی کام کانہیں رہتا۔اس آیت سے مسلمانوں کو نصیحت اورمسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ قرآن کریم کی موجودگی سے مغرورنہ ہونا۔آسمانی پانی آسمان ہی سے صاف ہوکر ملتاہے۔جب کبھی تم لوگ اپنے خیالات کو ملا کر کلام الٰہی کے مطالب کو گنداکردوگے اللہ تعالیٰ آسمان سے ایسے سامان کرے گاکہ پھر قرآنی مطالب صاف ہو کر دنیا کو پہنچادیئے جائیں گے۔وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ وَ نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ۰۰۲۴ اوریقیناً ہم ہی (ہرایک کو ) جِلاتے اورمارتے ہیں اورہم ہی (سب کے ) وارث ہیں حلّ لُغَات۔اَلْوَارِثُ۔اَلْوَارِثُ وَرِثَ سے اسم فاعل ہے۔نیزالْوَارِثُ کے معنی ہیں۔اَلْبَاقِیْ بَعْدَ فَنَائِ الْخَلْقِ۔یعنی وارث کالفظ خدا تعالیٰ پرا س لحاظ سے بولتے ہیں کہ وہ مخلوق کے فنا ہونے کے بعدباقی رہے گا۔وَفِی الدُّعَاءِ ’’اللّٰھُمَّ اَمْتِعْنِیْ بِسَمْعِیْ وَبَصَرِیْ وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنِّی‘‘ اَیْ اِبْقِھِمَا مَعِیْ صَحِیْحَیْنِ حَتّٰی اَمُوْتَ۔اورحدیث میں ایک دعاہےجس میں کان اورآنکھ کے لئے وارث کالفظ استعمال ہواہے۔جس کے معنے ہیں کہ موت تک وہ صحیح سلامت رہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرمایا ہم ہی باقی رہنے والے ہیں۔تم جو فانی ہوبھلا کلام الٰہی کی کیسے حفاظت کرسکتے ہو۔اس لئے ہم اپنا کلام بندوں کے سپرد نہیں کرسکتے۔وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ مِنْكُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا اورہم تم میں سے آگے نکل جانے والوںکو(بھی )یقیناًجانتے ہیںاور(اسی طرح)ہم(تم میں سے)پیچھے رہ جانے الْمُسْتَاْخِرِيْنَ۰۰۲۵ والوں کو(بھی) یقیناً جانتے ہیں تفسیر۔قرآن کریم کی حفاظت محض ظاہری علوم پر مبنی نہیں بلکہ قلبی طہارت سے تعلق رکھتی ہے یعنی یہ خیال نہ کرو کہ آخر مومن بندے دنیا میں موجود ہیں۔وہ کیوں حفاظت کاکام نہیں کرسکتے۔فرماتا