تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 270
کے مستحق نہ ہوتے۔آنحضرت ؐ کے زمانہ میں حشر دوسرے ان لوگوں میں جو خاص روحانی طاقتیں رکھتے ہیں اورنبی کو اس کے شروع زمانہ میں پہچان لیتے ہیں ان میں اورکمزوروں میں کوئی امتیاز نہ رہتا اگر ایساہوتاتوابوبکرؓ اورابو جہل میں کیا فرق رہ جاتا۔سب ہی ایک دم مسلمان ہوجاتے اوردنیا ابوبکرؓ کی قابلیتوں کو اورابو جہل کی نالائقیوں کو جان نہ سکتی۔پس ایساکرنا حکمت کے خلاف تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے جبر سے کام نہیں لیا اوراس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قابل جوہروں اورناقص لوگوں اوربالکل ناقابل لوگوں کے حالات دنیا کو معلوم ہوگئے اور اس کے نتیجہ میں دنیا نے ابوبکرعمراورعثمان اورعلی رضوان اللہ علیھم سے اپنے اپنے وقت میں فائدہ اٹھایا۔اگرسب ہی پہلے دن مسلمان ہوجاتے توممکن ہے پہلی سیادت کی وجہ سے لو گ ابوبکرؓ کی جگہ ابو جہل یاویسے ہی کسی آدمی کو اپنا سردار بناتے اوران فوائد سے محروم رہ جاتے جو ابوبکر وغیرہ سابق الایما ن صحابہؓ سے ان کو پہنچے۔ھو یحشرھم میں علیم کہنے کی وجہ علیم کہہ کریہ بتایا کہ گو اس حکمت کی وجہ سے دیر ہوئی ہے مگر اس سے مایوس نہ ہوناچاہیے خد اجو علیم ہے تم کو بتاتا ہے کہ آگے چل کر سب عرب اس دین کے اصول پر جمع ہوجائے گا۔اُخروی زندگی کے لحاظ سے یہ بتایاکہ ایک دن سب اگلے پچھلے لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جمع کئے جائیں گے اور اپنے اپنے اعمال کی جزاپائیں گے۔پس وہ ابتدائی تکالیف جو مسلمانوں کو پہنچ رہی ہیں ان کا خیال نہ کرنا چاہیے نہ ان لو گوں کو ناکام سمجھنا چاہیے جو اس شیطانی اور رحمانی جنگ میں فتح سے پہلے مارے جائیں گے کیونکہ اصل روزِجزا تو مرنے کے بعد آنے والا ہے اوراللہ تعالیٰ کی حکمت اورعلم نے اس دنیا کو اصل روزِجزا نہیں بنایا۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ اورانسان کو ہم نے یقیناً آواز دینے والی مٹی سے یعنی سیاہ گارے سے جس کی ہئیت تبدیل ہوگئی تھی مَّسْنُوْنٍۚ۰۰۲۷ پیدا کیاہے۔حلّ لُغَات۔صَلْصَال: صَلْصَالٌ اسم ہے اس سے فعل ماضی صَلْصَلَ ہے۔اورصَلْصَلَ الشَّیْءُ کے معنے ہیں صَوَّتَ۔اس چیز نے آوازدی۔صَلْصَلَ الْجَرْسُ۔رَجَّعَ صَوْتُہُ۔اوراگر صَلْصَلَ الْجَرْسُ کہیں تویہ