تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 256

شروع کردیتے ہیں۔پس یہ کہنا۔کہ کئی سال تک ابلیس کو اور دوسرے شیاطین کو اس کا علم ہی نہ تھا۔کہ رسول کریم ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں۔سنت الٰہیہ کا ردّ ہے اور واقعات کے خلاف۔اگر شیطان کوآپؐ کی بعثت کا علم نہ تھا۔تو مکہ میں مخالفت کا طوفان بے تمیزی کہاں سے اٹھ رہا تھا۔ابلیس کے کوئی بھی معنی کرو۔اس کا نبی کریم ﷺ کی بعثت سے ناواقف رہنا خلاف عقل۔خلاف قرآن اور خلاف سنت الٰہیہ ہے۔قرآن کریم صاف فرماتا ہے۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا۔(الانعام :۱۱۳) شیٰطین الانس و الجن کو نبی کی بعثت کا علم فوراً ہو جاتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود شیاطین الانس والجنّ کو نبیوں کی بعثت کا علم مناسب ذرائع سے دے دیتا ہے اور وہ نبی کی بعثت کے معاً بعد اُس کی مخالفت شروع کردیتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد شروع کردیتے ہیں پھر ابلیس یا اس کے چیلوں کا اس خبر سے ناواقف رہنا کیا معنے رکھتا ہے یاد رہے کہ اس مضمون میں بغرض سہولت اور حجت ابلیس یا جن وغیرہ کے الفاظ کے متداول معنے میںنے لئے ہیں اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے۔کہ میرے نزدیک وہی معنی درست ہیں۔اس کی بحث اپنے موقعہ پر آئے گی کہ میرے نزدیک ابلیس شیطان یا جنّ کے کیا معنے ہیں ؟ جنوں کا ایک دوسرے پر چڑھ کر غیب کا حاصل کرنے کا مطلب اس جگہ ایک سوال رہ جاتا ہے۔کہ جب غیب کا علم آسمان سے لینا یا آسمان سے خبروں کا سننا جنّوں کے لئے ناممکن ہے تو پھر حدیثوں میںجو آتا ہے کہ جنّ ایک دوسرے پر چڑھ کر آسمان کی خبر سنتے ہیں۔اس کا کیا مطلب ہوا ؟اس کا جواب یہ ہے۔کہ اس سے مراد انبیا ء کی باتوں کو سننا ہے اور ایک دوسرے پر چڑھ کر سننے سے یہ مراد ہے۔کہ آئمۃ الکفر خود انبیا ء کی مجالس میں حاضر نہیںہوتے اور براہ راست اپنے دلوں کے شکوک کو دُور نہیں کرواتے۔بلکہ ہمیشہ کئی واسطوں اور بزعم خود ہوشیاری سے ان کی تبلیغ اور تعلیم کو معلوم کرتے ہیں۔پھر چونکہ اوّل تو اُن کی اپنی نیّت خراب ہوتی ہے۔دوسرے وہ سنی سنائی باتوں پر اپنی مخالفت کی بنیاد رکھتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس قدر جھوٹ ان کے بیان میں مل جاتا ہے کہ ایک بات سچی ہو تو سوجُھوٹی ہوتی ہیں۔شیطانوں پر شہاب گرنے سے مراد اور یہ جو حدیثوں میں آتا ہے کہ کبھی شیطان لوگوں تک بات پہنچا دیتے ہیں۔اور پھر شہاب ان پر گرتا ہے۔اور کبھی بات پہنچانے سے پہلے شہاب ان پر گرجاتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ نبیوں پر گستاخی کرنے کے جرم میں فوراً پکڑے جاتے ہیں۔اور بعض کو حکمت الٰہی لمبی مہلت دے دیتی ہے۔اور وہ لوگوں کو خوب بھڑکاتے رہتے ہیں۔یہاں تک کہ ایک دن شہاب ان کو بھی آکر پکڑ لیتا ہے۔