تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 255
شروع کرتا ہے۔مگر پھر بھی وہ ناکام رہتاہے۔غرض اس آیت سے ثابت ہے کہ شیطان کاکلام الٰہی کو اچکنے کاکام کلام الٰہی کے اعلان کے بعد شروع ہوتا ہے۔اوراس بارہ میں سماء الدنیا سے مراد نبی کی مجلس ہے۔نہ کہ وہ فضا ء یا جَوّ جو ہمیں اپنے سروں کے اوپر نظرآتاہے۔نہ رسول کریم صلعم کے وقت نہ اس سے پہلے کبھی جنوں کو غیب کا علم ہوا (۷)یہ تو عام آیات تھیں۔ایک آیت خاص جنّوں کے متعلق بھی ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ نہ رسول کریمﷺ کے وقت میں نہ اس سے پہلے کبھی بھی جنّوں کو غیب کا علم حاصل ہواہے نہ پورا نہ ادھورا۔اور وہ آیت یہ ہے۔فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوْا فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِ۔(سبا:۱۵) یعنے جب حضرت سلیمان پر ہم نے موت وارد کی تو ان کی موت کا علم جنّوں کو اس وقت تک نہ ہو سکا۔جب تک کہ دابۃ الْارض نے جو ان کے عصا کو کھارہا تھا انہیں خبر نہ دی پھر جب وہ گر گئے تو جنّوں نے یہ امر معلوم کر لیا۔کہ اگر انہیں غیب کا کچھ بھی علم ہوتا تو وہ اس ذلیل کرنے والے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ سے پہلے زمانہ میں بھی جنّوں کو غیب کا علم حاصل نہ تھا۔اگر وہ آسمان پر سے سنا کرتے ہوتے تو انہیں حضرت سلیمان کی وفات کا علم کیوں حاصل نہ ہوتا۔یہ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان چونکہ نبی تھے۔ان کی وفات کی خبر ضرور الہاماًاور خاص اہتمام سے فرشتوں پر نازل ہوئی ہوگی۔کیونکہ نبی کی بعثت اور موت دونوں اہم امور ہوتے ہیں۔تفاسیر کا یہ دعویٰ کہ جنوں کو رسول کریم صلعم کی بعثت کا علم شہب کے گرنے سے ہوا غلط ہے تیسر ا دعویٰ تفاسیر میںیہ کیا گیا ہے کہ جنّوںکو بلکہ ابلیس کو رسول کریم ﷺ کی بعثت کا علم آسمانی شہب کے بعد ہوا ہے اور وہ بھی جب کہ رسول کریم ﷺ کو باجماعت نماز پڑھتے ہوئے انہوں نے دیکھا۔جیسا کہ تاریخوں سے ثابت ہے۔رسول کریم ﷺ نے نماز با جماعت پبلک میں کئی سال بعد شروع کی ہے(سیرۃ النبی لابن ہشام باب اسلام عمر بن الخطاب )۔پس اگر یہ معنے درست ہیں۔تو اس کے یہ معنے ہوںگے۔کہ رسول کریم ﷺ کی بعثت کے کئی سال بعد تک ابلیس کو یہ معلوم ہی نہ تھا۔کہ کوئی رسول مبعوث ہو اہے۔حالانکہ یہ صریح تعلیم قرآن کے خلاف ہے اور واقعہ کے خلاف ہے۔نبی کی بعثت پر شیطان کے گھر میں ماتم نبی کے دعویٰ کے ساتھ ہی شیطان کے گھر میں ماتم پڑجاتا ہے اور اسی وقت سب شیطان خواہ شیاطین الانس ہوں۔خواہ شیاطین الجنّ ہوں۔اس کی اور اس کی جماعت کی مخالفت