تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 254
بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا يَفْتَرُوْنَ۔(الانعام: ۱۱۳) یعنے جس طرح تیرے زمانہ میں ہورہاہے۔اسی طرح ہم نے ہر نبی کے زمانہ میں انسان شیطانوں اورجن شیطانوں کو چھوڑ رکھاتھا۔کہ وہ ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کے لئے جھوٹی باتیں سناتے تھے۔اوراگر تیرا رب چاہتا تو وہ یہ بھی نہ کرسکتے۔(مگر اس کی مشیت یہی ہے)اس لئے تو انہیں ان کے حا ل پر چھوڑ دے اور ان کے افترائوں کی طرف توجہ ہی نہ کر۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ انبیا ء کے دشمن جنّ و انس ایک دوسرے کو غیب کی باتیں نہیں بتاتے بلکہ جھوٹ بتاتے ہیں۔آیت کے آخر میں بھی یہ نہیں کہا کہ یہ آسما ن کی باتیں سنتے ہیں۔تو ان سے الگ رہ۔بلکہ یہ فرمایا ہے۔کہ یہ افتراء کرتے ہیں۔اس لئے تو ان سے الگ رہ۔اس افترا ء کا جواب خدا تعالیٰ ہی دے گا۔غیب کا اظہار اللہ تعالیٰ صرف رسولوں پر کرتا ہے (۶)عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا۔اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا۔لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا(الجنّ :۲۷۔۲۹) یعنے اللہ تعالیٰ غیب کاجاننے والا ہے اور وہ اپنے غیب کو سوائے اپنے رسولوں کے جو اس کے منتخب ہوتے ہیں اور کسی پر ظاہرنہیں کرتا۔پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس رسول کے آگے اورپیچھے نگران اورپہرہ دار چلتے ہیں۔تاکہ اسے یہ علم بھی حاصل ہوجائے۔کہ ان رسولوں نے اپنے رب کی بات لوگوں تک پہنچا دی ہے۔اوران کے تما م امور کا وہ احاطہ کئے رکھتاہے اورہراک چیز کی تعد اد بھی اس کے پاس محفوظ رہتی ہے۔یعنے کمیّت اور کیفیت دونوں کاریکارڈ اس کے پاس ہوتاہے کسی چیز میں کمی بیشی کاہوناممکن نہیں۔یہ آیت کس وضاحت سے مذکورہ بالا تفاسیر کو باطل کرتی ہے فرماتا ہے نہ صرف یہ کہ غیب کاعلم اللہ تعالیٰ کو ہے۔بلکہ اس غیب کا پہلا اظہار صرف رسولوں پرہوتاہے۔رسول بھی وہ جن کو اللہ تعالیٰ خود منتخب فرماتا ہے نہ بندوں کے چُنے ہوئے رسول۔پھر فرماتا ہے کہ جب تک وہ کلام رسول تک پہنچ نہ جائے ہم اس کی حفاظت کرتے ہیں تااس میں کوئی دوسرادخل نہ د ے سکے۔جب رسولوں تک وہ کلام پہنچ جاتاہے۔توپھر بھی اللہ تعالیٰ حفاظت نہیں چھوڑتا۔بلکہ حفاظت کرتارہتاہے یہا ں تک کہ و ہ رسول اس کلام کو بندو ں تک پہنچادیں اوراس طر ح مکمل طور پر پہنچادیں۔کہ اس کی کمیت اورکیفیت دونوں میں کوئی فرق نہ آئے۔جب تک رسول لوگوں تک کلام پہنچا نہ لیں شیطان کو اس کا علم ہی نہیں ہو سکتا گویا جب تک رسول لوگوں تک خدا تعالیٰ کاکلام پہنچا نہ دیں۔اس وقت تک شیطان کو اس کلام کے متعلق کوئی علم ہی نہیں ہوسکتا۔ہاں! جب وہ انسانوں میں پھیل جاتاہے توجیساکہ دوسری آیات سے ثابت ہے۔شیطان اس کلام کے بارہ میں شرارتیں