تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 242
اورکلام الٰہی میں رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف کام کرتے ہیں۔تومبین کی صفت بالکل برمحل اورمناسب حال معلوم ہوتی ہے۔کیونکہ اس صورت میں شہاب کے ساتھ مبین کے لفظ کا استعمال ایک مزید فائدہ کے لئے اور ایک روشن نشان کے معنوں پردلالت کرنے کے لئے ہے۔اوربتایاہے کہ اللہ تعالیٰ کاکلام جب تک آسمان پر ہوتاہے اورجب تک روحانی آسمان کے اجرام یعنی انبیاء پر نازل ہوتاہے اس وقت تک تو بالکل محفوظ ہوتاہے لیکن نچلے آسمان پر نازل ہونے کے بعد جب بنی نوع انسان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور مسموعات میں سے ہو جاتا ہے یعنی سنی ہوئی باتوں میں شامل ہو جاتا ہے۔پردئہ غیب سے پردئہ شہود پر آجاتاہے۔اورلوگ ایک دوسرے کو وہ کلام سنانے لگ جاتے ہیں۔شیطانوں کا انبیاء کے کلام کو چرانا توشیطان یعنے انبیاء کے دشمن اس کلام کو چرالیتے ہیں یعنی بغیر حق کے اس کلام کو لے لیتے ہیں اس کاغلط استعمال کرتے ہیں۔انبیاء اور ان کے اتباع کا چوروں کے فریب کو ظاہر کرنا تب یاتو وقت کے نبی کی معرفت ان پر آسمانی عذاب نازل ہوتاہے یاپھر انبیاء اوران کے اتباع اس کلام کی اصل حقیقت کو دنیاپر ظاہرکرکے ان چوروں کے فریب کو ظاہرکردیتے ہیں۔اوروہ ذلت کے عذاب میں مبتلاہوتے ہیں اورسچائی کی روشنی میں ان چوروں کی حقیقت ظاہر ہوجاتی ہے۔کلام الٰہی کے چرالینے سے مراد اس آیت میں کلام کے چرالینے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح چورناحق دوسرے کے مال کو لیتا ہے۔اسی طرح وہ کلام الٰہی کو ناحق لیتے ہیں یعنے اس کے معنوں کو سمجھ کر ایمان نہیں لاتے بلکہ صرف اس لئے کلام کو اخذ کرتے ہیں۔تااس کاناجائزاستعمال کریں اورا س کے غلط معنے کرکے لوگوںکو گمراہ کریں۔جس طرح چوری کا لباس چور کے بدن پر ٹھیک نہیں آتا اسی طرح انبیاء کی تعلیم چوروں کے معتقدات کے ساتھ مطابق نہیں آتی کلام کی چوری کرنے کے یہ معنی بھی ہیں کہ انبیاء کی بعض تعلیمات کو اس زمانہ کے لوگ اپنا بنا کر پیش کرتے ہیں۔اوراس طرح یہ ثابت کرناچاہتے ہیں کہ گویا ان کو بھی انہی علوم پر دسترس ہے۔جن پر انبیاء کو ہے بلکہ انبیاء نے ان کے علوم چرالئے ہیں۔لیکن جس طرح چوری کالباس پہچاناجاتاہے۔وہ چور کے بدن پر ٹھیک نہیں آتااسی طرح انبیاء کی چوری کی ہوئی تعلیم چونکہ ان چوروں کے دوسرے معتقدات کے ساتھ مطابق نہیں آتی۔جب انبیاء اوران کے اتباع ان کی حقیقت کو کھولتے ہیں تو ان کی چوری ظاہرہوجاتی ہے۔ہر نبی کا کلام چرایا گیا یہ دونوں امر سب نبیوں کے ساتھ پیش آئے ہیں۔انبیاء کی اعلیٰ تعلیمات کولوگ اپنی