تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 241

نظام جسمانی میں شیطانوں کایعنی برے انسانوں کازمین پر توتصرف ہے کہ وہ اس جگہ ظلم اور فساد پیداکرتے رہتے ہیں۔لیکن آسمان پرکوئی تصرف نہیں۔ظالمانہ طور پر وہ دنیوی نعمتوں پر توقابض ہوجاتے ہیں۔لیکن آسمانی نعمتوں جیسے ستاروں کی تاثیرات نورہوا وغیرہ کے فوائدسے لوگوں کومحروم نہیں کرسکتے اورنہ آسمان پر ان کاکوئی اختیار ہے۔سورج چاند ستارے ان کے تصرف سے بالا ہیں۔یہی حال روحانی عالم کا ہے کہ شیطانوں کاکوئی تصرف انبیاء اوران کے کامل متبعوںپر نہیں ہوسکتا۔جیسے دوسری جگہ فرمایا۔اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ۔(الحجر:۴۳) میرے کامل بندوں پر تیراکوئی اثر اورقبضہ نہ ہوگا۔نیز جس طرح آسمان جسمانی کی نازل کردہ برکات پر شیطانوں کاکوئی تصرف نہیں۔و ہ روشنی ،ہوااورتاثیرات سماوی میں روک نہیں ڈال سکتے اسی طرح روحانی آسمان یعنی انبیاء کے ذریعہ سے ظاہر ہونے والے فیض یعنی کلام الٰہی اورمعجزات ونشانات پر بھی شیطانوں کوکوئی تصرف حاصل نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ آسمان روحانی یعنے انبیاء کو اوران کی تاثیرات کو کلی طورپر شیطانی دخل سے پاک رکھتاہے۔یہ گویا اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ کی تشریح فرمائی ہے۔جملہ انبیاء مسِ شیطان سے پاک ہیں تعجب ہے اس آیت کی موجودگی میں مسلمان اس عقیدہ پر قائم ہیں کہ سوائے حضرت عیسیٰ اوران کی ماں مریم کے کوئی بھی خواہ نبی ہو مس شیطان سے پاک نہیں(قرطبی زیر آیت وانی اعیذھا بک۔۔)۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اس آیت میں آسمان روحانی کے محفوظ ہونے کا ذکر فرماتا ہے جس میں آدم سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک سب نبی اور ان کے کامل اَتباع شامل ہیں۔شہاب کے ساتھ مبین کی صفت لگانا ظاہر کرتا ہے کہ جسمانی نظام کی حفاظت مراد نہیں اس کے بعد فرماتا ہے اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ الآیہ۔ہاں اگر کوئی سنی سنائی بات چرالے تو اس پر شہاب مبین گرتاہے اس آیت نے صاف واضح کردیاکہ یہاں آسمان اور نظام شمسی کو بطور تمثیل بیان کیاگیاہے ورنہ جسمانی نظام مراد نہیں کیونکہ اول تو سنی سنائی بات کے چُرالینے کاآسمان جسمانی سے کوئی تعلق نہیں۔دوسرے شہابٌ کے ساتھ جومبین کی صفت لگائی ہے۔اس کاجسمانی شہاب سے کوئی تعلق نہیں۔شہاب کے معنی کیونکہ شہاب یاتوآگ کے شعلے کو کہتے ہیں یاوہ روشنی جو آسمان پرنظر آتی ہے اوریوں معلوم ہوتاہے کہ جیسے کوئی ستارہ ٹوٹا۔ان دونوں چیزوں کے لئے مبین کی صفت بے محل اوربے معنی ہے۔شہاب سے مراد انبیاء لئے جاویں تو مبین کی صفت بر محل اور مناسب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر روحانی آسمان مراد لیاجائے اورشہاب سے مراد انبیاء لئے جائیں جو آسمانی تائیدات اورنشانات لے کر آتے ہیں