تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 243

تعلیمات ظاہرکرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے ہیں۔اور اس طرح ان کی اہمیت کو گراناچاہتے ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حملہ سب نبیوں سے زیادہ ہواہے۔مسیحی اور آریہ مصنفین کے قرآن کریم کی تعلیمات پر بے جا اعتراضات مسیحی اور آریہ مصنفین کثرت سے قرآن کریم کی تعلیمات کے ٹکڑے لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ اُن کے مذاہب کی کتب میں پائے جاتے ہیں۔لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے نور کو ظاہر کیا جاتا ہے اوربتایاجاتاہے۔کہ جس ٹکڑے کو تم نے لے لیاہے۔وہ تو ایک لمبی زنجیر کی کڑی ہے۔اوروہ ساری زنجیر ایسے وسیع مطالب رکھتی ہے کہ تمہارے خواب و خیال میں بھی موجود نہیں۔توان کی پردہ دری ہوجاتی ہے۔مصنف ینابیع الاسلام کے قرآنی مطالب پر اعتراضات ایسے ہی حملہ کرنے والوں میںیَنابِیع الاسلام کامصنف ہے۔جس نے نہایت دیدہ دلیری سے قرآنی مطالب کے ٹکڑوں کو لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویاوہ پہلے مذاہب کی کتب سے لئے گئے ہیں۔حالانکہ وہ ٹکڑے ایک کُل کاحصہ ہیں اوران کو کُل سے الگ کیاہی نہیں جاسکتا۔اوراس کُل میں وہ اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ان کو کسی اورشئے کاجزو قراردیاہی نہیں جاسکتا۔اس کے لئے دیکھو سورہ فاتحہ کے شروع میں بسم اللہ پر بحث۔جسے مصنف یَنابِیع الاسلام نے زردشتی کتب کی چوری قرار دیاہے۔(یَنابِیع الاسلام فصل پنجم) دوسرے معنے جوکلام چرالینے کے میں نے یہ کئے ہیں کہ الٰہی کلام کے بعض ٹکڑوں کو لے کر غلط طور پر انہیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔یہ بھی سب نبیوں سے ہوتا چلاآیا ہے۔ہرنبی کے الہام کو اس کے مخالف بگاڑ کر پیش کرتے رہے ہیں۔تالوگوں کو ان کے خلاف جوش دلائیں وہ اصل مطلب کو بگاڑ بگاڑ کر ان کے الہامات کو پھیلاتے رہے ہیں۔اورچوروں کی طرح ان کا ناجائزاستعمال کرتے رہے ہیں۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی نشانات او ر معجزات سے مدد کی۔خدا تعالیٰ کا قہری نشانوں اور قدرت نمائی سے دشمنوں کو ہلاک کرنا اورایک طرف تودلائل سے معترضین کے غلط معنوں کو ردّ کیا۔اوردوسری طرف قہری اورقدرت نمائی کے نشانات کے ذریعہ سے اپنے نبیوں کی تائید کرکے ان کے دشمنوں کو ہلاک کروایا اور اس طرح اپنے کلام کی حفاظت کی۔بعض دفعہ نبی کے اتباع بھی دین سے بے بہرہ ہوکر اوربے دینی کاشکارہو کر دین کو بگاڑ لیتے ہیں اورکلام الٰہی کے معنی کچھ سے کچھ کردیتے ہیں اوراس کی خوبیوں کو غلط تفسیروں سے چھپادیتے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے