تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 196
تِلْکَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَکِتٰبٍ مُّبِیْنٍ یعنے قرآن کالفظ پہلے رکھ دیاگیاہے اور مبین کالفظ کتاب کے ساتھ لگادیا گیاہے۔مبین کی صفت کا الگ الگ استعمال ہونا سجع کی غرض سے نہیں ممکن ہے بعض ناواقف لوگ جو اسرارِقرآنیہ سے واقف نہیں یہ خیال کریں کہ سجع کی خاطر ایساکردیاگیاہے۔لیکن یہ درست نہیں کیونکہ اگر مبین سجع کی خاطر لگایاگیاتھا۔تو قرآن کو کتاب سے پہلے کیوں کیاگیا۔سورہ حجر والی ترتیب قائم رکھی جاتی او رکتاب کو پہلے اور قرآن کوبعد میں رکھاجاتا۔پس ان الفاظ کی ترتیب کو بدل دینے سے صاف ظاہر ہے کہ مُبین کالفظ سجع کی غرض سے کتاب کے ساتھ نہیں لگایاگیا۔بلکہ کسی اور حکمت کے ماتحت لگایاگیاہے مُبین کالفظ انہی دوسورتوں میںقرآن اورکتاب کے الفاظ کے ساتھ نہیں لگایاگیابلکہ اورسورتوں میں بھی ایساکیاگیاہے۔مبین کی صفت کے کتاب کے ساتھ آنے کے بارہ مقامات قرآن کےساتھ ایک تو اس سورۃ میں۔دوسرے سورۃ یٰس :۷۰ میںمبین کی صفت استعمال کی گئی ہے اور کتاب کے ساتھ ایک تو سورہ نمل کی مذکورہ بالاآیت میں اور دوسرے مندرجہ ذیل سورتوں میں یہ صفت بیان کی گئی ہے۔(المائدہ:۱۶) (ھود:۷) (الانعام:۶۰)(یونس:۶۲)(سبا:۴)(النمل:۷۶)(الشعراء:۳)(القصص:۳)(یوسف:۲)(الزخرف:۳) (الدخان:۳)گویابارہ جگہ کتاب کی صفت مبین آئی ہے اور دوجگہ قرآن کی۔پس سجع وغیرہ کاکوئی سوال نہیں۔یہ تغیّریقیناًکسی حکمت کے ماتحت ہے۔سورۃ نمل میں کتاب کے ساتھ مبین کی صفات آنے کی وجہ قرآن اورکتاب کے الفاظ اس قسم کے موقع پر دوہی جگہ جمع ہوئے ہیں۔ان میں سے ایک میں تو کتاب کو پہلے رکھا گیا ہے اور قرآن کو بعد میں اورقرآن کی صفت مبین بیان ہوئی ہے اوردوسری جگہ قرآن کو پہلے بیان کیاہے اورکتاب کو بعد میں اورکتاب کے ساتھ مبین کالفظ بیان ہواہے اوراصل مواقع یہی ہیں جوغورطلب ہیں۔کہ کیوں ایک جگہ قرآن کے ساتھ اور دوسری جگہ کتاب کے ساتھ مبین کالفظ استعمال کیاگیاہے۔سورئہ حجر اور نمل کے مضامین میں فرق اس کا جواب یہ ہے کہ سورئہ حجر اور سورہ نمل کے مضامین میں ایک فرق ہے سورئہ حجر میں ان انبیاء کا ذکر ہے۔اور ان کے حالات زندگی کو بطور تمثیل پیش کیاگیاہے جن میں کتابت کارواج کم تھااور علوم کو زبانی یاد رکھاجاتاتھا۔یعنے حضرت آدم ؑ حضرت ابراہیم ؑ۔ان کے رشتہ دار۔حضر ت لوط ؑ اور اصحاب ایکہ یعنے بَن والے لوگ اور قوم صالح ؑ۔