تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 195

لَحَافِظُوْنَ (الحجر:۱۰) والے مضمون پرزور دیاگیا ہے اور اس جگہ معنوی طور پر قرآ ن مجید کی دوصفات کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔الْكِتٰبِ میں قرآن مجید کے تحریر میں آنے کی طرف اشارہ ہے اور قُرْآنٍ میں پڑھے جانے کی طرف کِتٰبکے لفظ میں اس کے تحریر میں آنے کی طرف اشارہ ہے اور قُرْاٰنٍ کے لفظ میں اس کے بکثرت پڑھے جانے کی خبر دی گئی ہے۔گویایہ دونام نہیں۔بلکہ دوصفات ہیں۔جیسا کہ کبھی محمدؐ کالفظ بطورصفت کے یعنی بہت تعریف کیاگیا کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہ دونوں صفات یکجائی طورپر صرف قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔اس کے سوااور دنیا کی کسی الہامی کتاب میں یہ صفات جمع نہیں ہیں۔انجیل اورتورات کثرت سے پڑھی جاتی ہیں۔لیکن ان کو یاد کرنے والاکوئی نہیں۔ویدوں کویادکرنے والاچھوڑ۔ان کے معنے جاننے والے بھی شاذ ہیں۔اس زمانہ میں سناہے پچیس کروڑ ہندوئوں میں سے معارف تو الگ رہے۔صرف چار آدمی سارے ہندوستا ن میں ویدوں کاترجمہ سمجھ سکتے ہیں۔یہی حال ژنداوستا کا ہے۔صرف اور صرف قرآن کریم ہے جوکتابی صورت میں بھی پڑھاجاتا ہے اور حفظ بھی کیا جاتا ہے۔اوردونوں صورتوں میں لاکھوں کروڑوں آدمی اس سے فائدہ اُٹھارہے ہیں۔لفظ کتاب اور قرآن کو آگے پیچھے لانے کی وجہ اس جگہ ایک اور لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید کے متعلق دوجگہ پر کتاب اور قرآن کالفظ اکٹھاآتاہے ایک جگہ قرآن کالفظ پہلے ہے اورکتاب کابعدمیں (النمل: ۲)اورایک جگہ کتاب کالفظ پہلے اورقرآن کالفظ بعد میں استعمال ہواہے۔چنانچہ اس آیت میں کتاب کالفظ پہلے ہے اورقراٰن کابعد میں۔میرے نزدیک یہ فرق درجہ کے تفاوت کو مدّنظر رکھ کر کیاگیاہے۔سورہ حجر میں کتاب کی صفت سے زیادہ قرآن کی صفت کے اظہار پر زوردیاگیاہے۔اس لئے کتاب کو پہلے اورقرآن کو بعد میں بیان کیاگیاہے۔کیونکہ جب درجہ بیان کرناہوتوبڑی شے کو چھوٹی کے بعد بیا ن کیاجاتا ہے۔اورسورہ نمل میںچونکہ قرآن کریم کی زبانی تلاوت سے زیادہ اس کی تحریرکے اثرکونمایاںکرناتھا۔اس لئے اس میں قرآن کالفظ پہلے رکھا گیاہے اورکتاب کالفظ بعد میں رکھا گیا۔کتاب اور قرآن کے لفظ کے ساتھ مختلف طور پر مبین کا لفظ لانے کی وجہ ایک اور امر بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت میں اَلْکِتَابِ کے ساتھ مُبِیْنٍ کالفظ نہیں ہے۔مگر قرآن کے ساتھ مُبِیْنٍ کالفظ آیاہے اس کے برخلاف سورہ نمل کے پہلے رکوع میں اس آیت کے مضمون کو اُلٹ کربیان کیاہے۔اورکہا ہے۔