تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 197
قرآن مبین کہنے سے وہ قومیں مخاطب ہیں جن میں تحریر کا رواج کم تھا حضرت آدم ؑ کا زمانہ ابتدائی تھا۔اورغالباًتحریرکافن ابھی شروع بھی نہ ہواتھا۔حضرت ابراہیم ؑاور حضرت لوط ؑ عربی قبائل میں سے تھے۔اور عراق ان کا مولد تھاان میں بھی تحریرکاروا ج کم تھا۔اصحاب الایکہ بھی عرب کا قبیلہ تھے اور قوم صالح ؑبھی اور ان سب میں تحریر کا رواج کم تھا پس ان مثالوں سے ثابت ہے۔کہ سورئہ حجر میں زیادہ ترخطاب ان اقوام سے ہے۔جن میں تحریرکارواج کم تھا۔اورجنھوں نے حفظ کے ذریعہ سے قرآنی علوم سے زیادہ فائدہ اٹھاناتھا۔پس اس سورۃ میںقرآن کےساتھ مبین کالفظ رکھا یہ بتانے کے لئے کہ ان اقوام میں اس کلام کی صفت قرآن لوگوں کوزیادہ فائدہ پہنچائے گی۔لیکن کتاب کی صفت بھی ساتھ بیان کی تاکہ مکمل حفاظت کااظہار ہو۔اس کے بالمقابل سورئہ نمل میں کتاب کے ساتھ مبین کالفظ لگایاگیاہے۔کیونکہ اس سورۃ میں حضرت موسیٰ علیہ لسلام اور حضرت دائود ؑکے واقعات پر زور دیاگیاہے جوبنی اسرائیل میں سے تھے۔جن میں لکھنے کارواج بہت تھااورزبانی یاد رکھنے کارواج کم تھا(The Illustrated Bible Dictionary underword WRITING)اوران انبیاء کے اتباع نے محمد رسول اللہ صلعم پر نازل ہونے والے کلام کی صفت کتاب سے زیادہ فائدہ اٹھاناتھابہ نسبت صفت قرآن کے۔اس لئے اس کی مناسبت سے سورئہ نمل میں قرآن کے لفظ پر زورکم دیااورکتاب پر زیادہ۔غرض سورئہ حجرمیں تویہ بتایاہے کہ قرآن کریم گو لکھابھی گیاہے مگربعض اقوام جوحافظہ سے زیادہ کام لینے والی ہیں۔اس کویادکرکے اورسن کر زیادہ فائدہ اٹھائیں گی۔اوراس سورۃ میں وہی ہماری بڑی مخاطب ہیں او رسورۃ نمل میں یہ بتایاگیاہے کہ قرآن کریم گوحفظ بھی کیاجائے گالیکن لکھا بھی جائے گا۔اوربعض قومیں جو تحریرسے زیادہ فائدہ اٹھانے والی ہیں۔وہ اسے کتاب سے پڑھ کرزیادہ فائدہ اٹھائیں گی اور ا س سورۃ میں وہی ہماری بڑی مخاطب ہیں۔قرآن مجید سے تمام قومیں فائدہ اٹھائیں گی حافظہ سے کام لینے والی بھی اور تحریر سے بھی خلاصہ یہ کہ قرآن کریم قرآن ہونے کے لحاظ سے بھی مبین ہے اور کتاب ہونے کے لحاظ سے بھی۔او رچونکہ وہ سب دنیا کی طرف ہے اس سے وہ قومیں بھی فائدہ اٹھائیں گی جوحافظہ سے زیادہ کام لیتی ہیں۔ان کے لئے وہ قرآن مبین ہوگااوروہ قومیں بھی فائدہ اٹھائیں گی جوتحریرسے وابستہ ہیں اور ان کے لئے وہ کتاب مبین ہوگا۔کتاب کے ساتھ مبین کی صفت کا کثرت استعمال جیساکہ میں نے بتایاہے۔قرآن مبین کالفظ دو دفعہ استعمال ہوا ہے۔اورکتاب مبین کا بارہ دفعہ۔اس میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قرآن کریم کاکتاب ہونے کے لحاظ سےحلقہ وسیع ہوگا اور اکثر لوگ اس کے کتاب ہونے کے لحاظ سے فائدہ اٹھائیں گے۔یعنی