تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 162
میں جاکر علیحدہ قانون بناتے ہیں۔یہی حال عیسائیت کا ہے۔چنانچہ ان کی مشنری کتب میں کھلے طور پر بحثیں ہوتی رہتی ہیں کہ ہر قوم کے آگے کس رنگ میں مسیح علیہ السلام کو پیش کرنا چاہیے۔شروع مسیحیت میں بھی روم والوں نے جب مطالبہ کیا کہ سبت ہفتہ کی جگہ اتوار کو ہو تو مسیحیوں نے ان کی خاطر ہفتہ کی بجائے سبت اتوار کو قرار دے دیا۔اس کے بالمقابل اسلام کو دیکھو شروع سے لے کر اس وقت تک سب تعلیم ایک جڑھ پر قائم ہے۔نہ کم کرنے کی ضرورت ہوئی نہ زیادہ کرنے کی۔يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيٰوةِ جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں اللہ( تعالیٰ) اس قائم رہنے والی (اور پاک) بات کے ذریعہ سے (اس) ورلی زندگی الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ يُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ١ۙ۫ وَ يَفْعَلُ میں (بھی) ثبات بخشتا ہے اور آخرت (کی زندگی) میں بھی( بخشے گا) اور ظالموں کو اللہ(تعالیٰ) ہلاک کرتا ہے اللّٰهُ مَا يَشَآءُؒ۰۰۲۸ اور اللہ( تعالیٰ) جو چاہتا ہے کر تا ہے۔حلّ لُغَات۔یُثَبِّتُ: ثَبَّتَ کا مضارع ہے۔جس کا مجرد ثَبَتَ ہے اور ثَبَتَ الْاَمْرُ عِنْدَ فُلَانٍ کے معنے ہیں تَحَقَّقَ وَ تَأَکَّدَ۔کوئی امر کسی کے نزدیک یقینی طور پر ثابت ہو گیا۔ثَبَتَ فُلَانٌ عَلَی الْاَمْرِ۔دَاوَمَہٗ۔کسی کام پر دوام اختیار کیا۔وَاَثْبَتَہٗ وَثَبَّتَہٗ۔جَعَلَہٗ ثَابِتًا فِی مَکَانِہٖ لَایُفَارِقُہٗ۔اور اَثْبَتَہٗ اور ثَبَّتَہٗ کے معنے ہیں اس کو اس کی جگہ پر ایسے طور پر ثبات بخشا اور مضبوط رکھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکے۔سو ثَابِتٌ کے معنے ہوں گے اپنی جگہ پر مضبوط رہنے والا۔(اقرب) پس يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ کے معنے ہوں گے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ قائم رہنے والی اور مضبوط بات کے ذریعہ سے ثبات اور اپنی جگہ پر مضبوط رہنے کی طاقت بخشتا ہے۔یُضِلُّ یُضِلُّ اَضَلَّ سے مضارع ہے اور اَضَلَّ کے معنے ہیں اَھْلَکَہٗ اسے ہلاک کیا۔(اقرب) تفسیر۔وہ قول جو ثابت ہے وہ وہی ہے جو کلمہ طیبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔یعنی اس کی تائید کے لئے