تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 161

بہائی تعلیم پر عمل کرتی ہو۔(۵) تازہ امداد اس کو نہ ملتی ہو۔یعنی وحی الٰہی کا سلسلہ اس میں جاری نہ ہو۔(۶) اس کے فروع بلند نہ ہوں۔یعنی اعلیٰ درجے کے اخلاق پر حاوی نہ ہو۔اور ہر قسم کی ضرورت ہائے انسانی پر اس میں بحث نہ ہو۔مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ کےد و معنی ’’مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ‘‘ (۱) وہ کسی ملک میں قائم نہ رہ سکے۔یعنی اس کو ایسا موقعہ ہی نہیں دیا جاتا کہ اس کا تجربہ کرکے دنیا کوئی نتیجہ نکالے۔بغیر تجربہ ہی وہ مر جاتی ہے۔(۲) اس کے اصول کو بدلنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔اسلام نے شروع سے ’’ لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ کہا اور بعد میں کوئی تبدیلی اس میں نہ ہوئی۔لیکن جو جھوٹا مذہب ہوگا اس میں اصول کو ہمیشہ بدلنا پڑے گا۔مثال کے طور پر بہائیوں کو دیکھ لو۔ایران میں جاؤ تو وہاں بہائیت کی تعلیم اور رنگ میں پیش کی جاتی ہے۔کیونکہ وہاں شیعہ ہیں۔سنی ممالک میں اسی مذہب کی تعلیم اور رنگ میں پیش کی جاتی ہے۔امریکہ میں جاکر اصول بالکل مختلف کر دیئے گئے ہیں۔اسی طرح انگلستان میں وہ باتیں پیش کی جاتی ہیں جن کو وہاں کے لوگ قبول کرنے کے لئے تیا رہوں۔مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍکی ایک مثال چنانچہ جب میں انگلستان گیا تو بہائیوں میں سے ایک عورت نے میرے ساتھ گفتگو کی۔میں نے کہا بہاء اللہ نے کون سی نئی بات پیش کی ہے۔اس نے کہا کہ بہاء اللہ نے کہا ہے کہ ایک ہی عورت سے شادی کرنی چاہیے۔میں نے کہا کہ اس نے خود دو بیویاں کی ہوئی تھیں۔پہلے اس نے انکار کیا پھر کہا کہ وہ دعویٰ سے پہلے کی بات ہے۔میں نے کہا جب وہ نعوذباللہ خدا تھا تو پھر پہلے اور پیچھے کا تو سوال ہی نہیں۔عالم الغیب ہستی کے لئے پہلے پیچھے کوئی معنے نہیں رکھتا۔اس کو پہلے ہی علم ہونا چاہیے تھا کہ میں آگے چل کر کیا تعلیم دینے والا ہوں۔نیز اس نے دعویٰ کے بعد اپنے بیٹے عباس کو دو بیویاں کرنے کی اجازت دی۔کیونکہ اس کے ہاں اولاد نہ تھی۔اس پر اس عورت کے کان میں ایک ایرانی بہائی عورت نے جو ایران کی تھی چپکے سے کہا کہ دوسری بیوی کو بہاء اللہ نے بہن بنا لیا تھا۔اور یہی بات اس انگریز عورت نے دوہرا دی۔اس پر میں نے کہا کہ بہاء اللہ کے دعویٰ کے بعد دونوں عورتوں سے اولاد ہوئی ہے۔کیا بہن کے ہاں اولاد پیدا کی گئی تھی۔اس پر وہ حیران ہو کر اپنی دوست سے پوچھنے لگی کہ کیا دعویٰ کے بعد دوسری عورت کے ہاں اولاد ہوتی رہی ہے؟ اور جب اس نے کہا کہ ہاں تو مجلس میں سب ہنس پڑے کہ ابھی تو بہن قرار دیا تھا اور ابھی اس کے ہاں اسی زمانہ میں اولاد کا ہونا بھی تسلیم کر لیا۔غرض بہائی لوگ ہر ملک