تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 163
اللہ تعالیٰ الہام نازل کرتا ہے۔اس کو ثابت اس لئے کہا کہ آج ان کو اور کل ان کے بھائیوں کو حاصل ہو گا۔ا ور کبھی یہ سلسلہ نہ ٹوٹے گا۔اور پھر اس وجہ سے بھی ثابت کہا کہ اس کا اثر یہاں پر بھی اور آخرت میں بھی ہوگا۔لیکن اس کے خلاف جھوٹے مدعیوں کا کلام مرنے کے بعد کوئی فائدہ نہیں دیتا۔وَ يُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيْنَ١ۙ۫ وَ يَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ ظالم وہ ہیں جو کلام الٰہی میں عِوَج چاہتے اور اس کے راستہ میں روکیں ڈالتے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرے گا سے یہ مراد ہے کہ قرآن کریم کی اشاعت اور اس کے دنیا میں قائم ہوجانے کے متعلق اور اس کے مخالفوں کی تباہی کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے اسے اللہ تعالیٰ پورا کر کے دکھا دے گا۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا (اے مخاطب) کیا تو نے ان لوگوں( کی حالت) کو( غور کی نظر سے) نہیں دیکھا جنہوں نے ناشکری سے قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ۰۰۲۹ اللہ( تعالیٰ) کی نعمت کو بدل ڈالا(اور آپ بھی ہلاک ہوئے )اوراپنی قوم کو( بھی) ہلاکت کے گھر میں (لا) اتارا۔حلّ لُغَات۔بَـوَارٌ بَارَ یَبُوْرُ کا مصدر ہے اور بَارَ کے معنے ہیں ھَلَکَ۔ہلاک ہو گیا۔بَارَ السُّوْقُ وَالسِّلْعَۃُ کَسَدَتْ۔سامان یا بازار کا بھاؤ گِر گیا۔بَارَ الْعَمَلُ بَطَلَ کام باطل ہو گیا۔بَارَالْاَرْضُ بَوْرًا لَمْ تُزْرَع زمین میں کسی قسم کی کھیتی نہ بوئی گئی۔بَارَ زَیْدٌ عَمْرًا جَرَّبَہٗ وَاَخْتَبَرَہٗ۔زید نے عمر کا امتحان لیا۔وَ مِنْہُ کُنَّا نَبُوْرُ اَوْلَادَ نَا بِـحُبِّ عَلِیٍّ۔اور انہی معنوں میں یہ قول ہے جس کے معنے ہیں ہم اولاد کا امتحان لیا کرتے تھے کہ وہ حضرت علی سے کتنی محبت رکھتے تھے۔اَلْبَوَارُ اَلْھَلَاکُ۔ہلاکت۔اَلْکَسَادُ۔کسی چیز کی مانگ نہ ہونا (اقرب) پس دَارُالْبَوَارِ کے معنی ہوئے ہلاکت کا گھر۔دَارُالْاِمْتِحَانِ امتحان کا گھر۔دَارُالْکَسَادِ ایسا گھر جس کی طرف رغبت نہ ہو۔تفسیر۔خدا کی نعمت کو کفر سے بدلنے کا یہ مطلب ہے کہ خدا نے تو ان پر انعام کیا تھا انہوں نے یہ بدلہ دیا کہ احسان فراموشی سے کام لے کرا س احسان کا یعنی کلمہ طیبہ کا انکار کرکے قوم کو ہلاک کر دیا۔