تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 131
يَّتَجَرَّعُهٗ وَ لَا يَكَادُ يُسِيْغُهٗ وَ يَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ وہ اسے تھوڑا تھوڑا کر کے پیئے گا اور اسے آسانی سے نہیں نگل سکے گا اور ہر جگہ (اور ہر طرف) سے اس پر موت آئے مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَيِّتٍ١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ۰۰۱۸ گی اور وہ مرے گا نہیں اور اس کے علاوہ بھی( اس کے لئے )ایک سخت عذاب( مقرر) ہے۔حلّ لُغَات۔یَتَجَرَّعُہٗ۔تَـجَرَّعَ سے مضارع کا صیغہ ہے۔اور تَـجَرَّعَ الْمَاءَ کے معنے ہیں اِبْتَلَعَہٗ شَیْئًا بَعْدَ شَیْءٍ۔اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے حلق سے اتارا۔وَمِنْہُ فِی الْقُرْاٰنِ۔وَ يُسْقٰى مِنْ مَّآءٍ صَدِيْدٍ۔يَتَجَرَّعُهٗ اور آیت مذکورہ میں يَتَجَرَّعُهٗکے معنے یہی ہیں کہ اس کو گلے سے بڑی مشکل سے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارے گا۔تَجَرَّعَ الْغَیْظَ کَظَمَہٗ غصہ کو دبایا۔(اقرب) یَسِیْغُ اَسَاغَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور سَاغَ (جو اَسَاغَ کا مجرد ہے) کے معنے ہیں سَاغَ الشَّرَابُ فِی الْحَلْقِ۔ھَنَا وَسَلِسَ وَسَہُلَ مَدْخَلُہٗ فِیْہِ کہ پانی راس آیا اور حلق سے بآسانی نیچے اتر گیا۔(پس اَسَاغَ کے معنے ہوئے آسانی سے اتارا۔لیکن کبھی اَسَاغَ متعدی بھی استعمال ہوتا ہے جیسے) اَسَاغَ الطَّعَامُ اسَاغَۃً کے معنے ہیں سَہُلَ مَدْخَلُہٗ فِی الْحَلْقِ وَسَاغَ لَہٗ دَخُوْلُہٗ فِیہِ کھانا گلے میں آسانی سے اتر گیا۔(اقرب) پس وَ لَا یَکَادُ یُسِیْغُہ کے معنے ہوں گے کہ اسے حلق سے آسانی سے نہیں اتار سکے گا۔وہ اس کے لئے فائدہ مند ثابت نہ ہوگا۔غَلِیْظٌ غَلِیْظٌ ذُوالْغِلَاظَۃِ۔سختی والا۔خِلَافُ الْلِّیْنِ وَالسَّلِسِ۔نرمی اور سہولت کے مخالف معنے دیتا ہے۔اَمْرٌغَلِیْظٌ شَدِیْدٌ صَعْبٌ۔سخت مشکل امر۔عَذَابٌ غَلِیْظٌ اَیْ شَدِیْدُ الْاَلَمِ۔سخت دردناک عذاب۔(اقرب) تفسیر۔وَ يَأْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ اس سے بتایا ہے کہ جس طرح مومنوں کو جنت میں ہر دروازہ سے سلام آئے گا اسی طرح کفار کو ہر طرف موت کا سامنا ہوگا۔یعنی قسم قسم کے گنہ جو وہ کرتے تھے موت کی شکل میں ان کے سامنے آئیں گے۔مگر فرمایا کہ وہ اس موت سے مریں گے نہیں کیونکہ اصل غرض ان کی اصلاح ہے۔آخر سلامتی پہنچ جائے گی۔کیونکہ انسان سلامتی کے لئے پیدا ہوا ہے۔موت نہ پہنچے گی کیونکہ انسان موت کے لئے نہیں پیدا کیا گیا۔(سوائے پہلی موت کے)