تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 132
جنت کے لئے باب اور دوزخ کے لئے مکان کا لفظ استعمال کرنے میں حکمت جنت اور دوزخ کے ذکر میں (جنت کا ذکر سورۂ رعد میں آیا تھا دیکھو آیت ۲۴،۲۵) ایک یہ فرق بھی رکھا ہے کہ جنت کے متعلق تو باب کا لفظ استعمال کیا تھا اور دوزخ کے لئے مکان کا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سلامتی باہر سے آتی ہے یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے اور موت یعنی ہلاکت انسان اپنے لئےخود پیدا کرتا ہے۔پس سلامتی کے لئے تو فرمایا کہ دروازوں سے آئے گی اور ہلاکت کے لئے فرمایا کہ اندر سے ہی ہر کونہ سے نکل پڑے گی۔وَ مِنْ وَّرَآىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌسے مراد وَ مِنْ وَّرَآىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌ سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس عذاب کے بعد اور عذاب آئیں گے۔مثلاً خدا تعالیٰ سے دوری، ندامت، حسرت وغیرہ اور یہ بھی کہ یہ عذاب ایک دفعہ مل کر ہٹ نہ جائے گا بلکہ لمبا چلتا جائے گا۔مَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ جن لوگوں نے اپنے رب (کے احکام) کا انکار کیا ہے ان کے اعمال اس راکھ کی طرح ہیں جسے ایک تیز آندھی والے ا۟شْتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ١ؕ لَا يَقْدِرُوْنَ دن ہوا تیزی سے (اڑا) لے گئی ہو۔جو کچھ انہوں نے( اپنے مستقبل کے لئے) کمایا ہے اس میں سے کوئی حصہ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَيْءٍ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِيْدُ۰۰۱۹ (بھی) ان کے ہاتھ نہیں آئے گا یہی پرلے درجہ کی تباہی ہے۔حلّ لُغَات۔عَاصِفٌ۔عَصَفَ سے اسم فاعل ہے اور عَصَفَ الزَّرْعَ یَعْصُفُ عَصْفًا کے معنے ہیں جَزَّہٗ قَبْلَ اَنْ یُّدْرِکَ کھیتی کو پکنے سے پہلے ہی کاٹ لیا۔الرِّیْحُ تَعْصِفُ عَصْفًا وَعُصُوْفًا۔اِشْتَدَّتْ۔ہوا کے لئے جب عَصَفَ کا لفظ استعمال ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں ہوا تیزی سے چلی۔عَصَفَ فُلَانٌ عِیَالَہٗ کَسَبَ لَھُمْ اپنے اہل و عیال کے لئے کمایا۔عَصَفَ الْحَرْبُ بِالْقَوْمِ ذَھَبَتْ بِھِمْ وَاَھْلَکَتْہُمْ۔لڑائی نے قوم کو تباہ و برباد کر دیا۔اور عَصَفَ الدَّھْرُ بِھِمْ بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے کہ زمانے نے ان کو ہلاک کر دیا۔النَّاقَۃُ بِرَاکِبِھَا کے معنے ہیں اَسْرَعَتِ السَّیْرَ کَاَنَّھَا الرِّیْـحُ۔اونٹنی اپنے سوار کو تیزی سے لے کر چلی۔گویا کہ وہ