تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 122

سوچو کہ جسے بھی خدا تعالیٰ چنتا آخر وہ اس کی مخلوق میں سے ہی ہوتا اور اس کی دی ہوئی طاقتوں کے ساتھ ہی آتا۔آنے والا خدا تعالیٰ کا شریک یا غیر مخلوق تو ہو نہیں سکتا تھا۔کیونکہ ایسی کوئی ہستی ہے ہی نہیں۔اور جب بہرحال اس نے مخلوق ہی میں سے ہونا تھا تو اس پر کیا اعتراض کہ اس نے انسانوں کو اس کام کے لئے کیوں چنا۔اپنے بندوں میں سے جسے اس نے چاہا چن لیا۔تم اس کے اختیارات کو محدود کرنے والے کون ہو؟ انبیاء بشریت سے بالا نہیں ہوتے باقی جو تم ہم سے ایسی دلیل کا مطالبہ کرتے ہو کہ ہم اپنی فضیلت تم پر ثابت کریں تو یہ مطالبہ ہمارے دعاوی کے خلاف ہے۔ہم نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم بشر سے بالا ہیں۔بلکہ بشر رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور صرف یہ دعویٰ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے ہاتھ پر نشان دکھاتا ہے اور ہمارا اس کی مدد پر انحصار ہے یہ دعویٰ کبھی نہیں کیا کہ ہم خود کوئی معجزہ دکھاتے ہیں۔اور جو اصولِ دین ہم پیش کرتے ہیں ان کے رو سے تو وہ شخص مومن ہی نہیں کہلا سکتا جو اپنی ذاتی فضیلت کو پیش کرے۔وہ تو کافر ہے مومن نہیں۔وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنَا سُبُلَنَا١ؕ وَ اور ہمیں( ہوا) کیا ہے کہ ہم اللہ (تعالیٰ) پر توکل نہ کریں حالانکہ اس نے ہمارے( مناسب حال) راستے ہمیں لَنَصْبِرَنَّ عَلٰى مَاۤ اٰذَيْتُمُوْنَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ دکھائے ہیں اورجو دکھ تم نے ہمیں دے رکھا ہے اس پر ہم یقیناً صبر کرتے چلے جائیں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو تو الْمُتَوَكِّلُوْنَؒ۰۰۱۳ اللہ (تعالیٰ) پرہی بھروسہ کرنا چاہیے۔حل لغات۔ھَدٰنا۔ھَدَی کی تشریح کے لئے دیکھو سورۃ رعد آیت ۲۸۔تفسیر۔یعنی اللہ تعالیٰ کی طاقتوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہم تو وہم بھی نہیں کرسکتے کہ خدا تعالیٰ ہماری تائید اور مدد کا محتاج ہے۔بلکہ اس کی قدرت کو دیکھ کر ہم نے تو ان طاقتوں کو بھی جو اس نے ہمیں دوسرے انسانوں کی طرح دے رکھی ہیں اسی کے سپرد کر دیا ہے۔هَدٰىنَا سُبُلَنَا میں عظیم الشان نکتہ هَدٰىنَا سُبُلَنَا سے یہ بتایا کہنبی کی فضیلت ذاتی فضیلتوں کے سبب سے نہیں