تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 121
يَدْعُوْكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ يُؤَخِّرَكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى۔ابھی ایک سوال باقی تھا اور وہ یہ کہ کفار کہہ سکتے تھے کہ ہمیں یہ تو شک نہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ہدایت کی طرف بلاسکتا ہے یا نہیں۔ہم تو یہ کہتے ہی کہ وہ بڑی شان والا ہے اس کی شان کے خلاف ہے کہ ہم جیسے حقیر وجودوں کو بلائے۔(یہ خیال اب بھی تعلیم یافتہ طبقہ میں پھیلا ہوا ہے) تو اس کا جواب یہ ہے کہ بڑی شان والے کی شان کے خلاف تو یہ امر ہوتا ہے کہ وہ چھوٹوں کو اپنی مدد کے لئے بلائے نہ یہ کہ وہ چھوٹوں کی مدد کے لئے خود آئے۔یہ فعل تو اس کی شان کے عین مطابق ہے۔ہمارا یہ تو دعویٰ نہیں کہ خدا تعالیٰ تم کو اس لئے بلاتا ہے کہ تم سے کوئی فائدہ اٹھائے۔بلکہ ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اس لئے تمہاری طرف بھیجا ہے کہ تا تمہاری احتیاج کو دور کرے۔اور تمہارے گناہوں کو معاف کرے۔اور تمہیں ایک نئی زندگی عطا کرے۔اس پر ان کا یہ اعتراض نقل کیا کہ اگر ایسا ہوتا تو خدا تعالیٰ کوئی اپنی شان کے مطابق پیغامبر بھیجتا نہ کہ ہمارے جیسے ایک انسان کو بھیج دیتا۔تم تو ہماری ہی طرح کے ایک بشر ہو تم کو خدا نہیں بھیج سکتا تھا۔پس معلوم ہوتا ہے کہ تم یہ سب باتیں محض ہم پر حکومت کرنے کے لئے بنا رہے ہو۔تاکہ ہمیں اپنے آباء کی اطاعت سے ہٹا کر اپنی فرمانبرداری میں لگاؤ۔اگر ہمارا یہ شبہ غلط ہے تو نشانات کے ذریعہ سے اس امر کو ثابت کرو کہ تم ہم سے بالا ہستی ہو۔قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ وَ لٰكِنَّ ان کے پیغمبروں نے انہیں کہا (کہ یہ سچ ہے کہ) ہم تمہاری (ہی)طرح کے بشر ہیںلیکن(ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ) اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ اللہ (تعالیٰ) اپنے بندوں میں سے جس پرچاہتا ہے(خاص) احسان کرتا ہے۔اور یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ ہے کہ اللہ (تعالیٰ) کے حکم کے سوا تمہارے پاس کوئی نشان لائیں۔اور مومنوں فَلْيَتَوَكَّلِالْمُؤْمِنُوْنَ۰۰۱۲ کو اللہ( تعالیٰ) پر ہی توکل رکھنا چاہیے۔تفسیر۔اس پر اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے جواب دیا کہ بے شک ہم تمہاری ہی طرح کے آدم ہیں لیکن یہ تو