تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 123
ہوتی بلکہ اس امر میں ہوتی ہے کہ وہ انسان کی احتیاج کو ثابت کرکے آسمانی مدد کی ضرورت کو ثابت کرتا ہے۔ان الفاظ میں یہ عظیم الشان نکتہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ شریعت ان امور کو بیان کرتی ہے جو انسان کے اپنے فائدہ کے لئے ہوتے ہیں۔یہ مضمون سُبُلَنَا (ہمارے راستے) کے الفاظ سے نکلتا ہے۔یعنی وہ راستے جن کی ہمیں اپنی ترقی کے لئے ضرورت ہے نہ کہ خدا کو ان کی ضرورت ہے۔دوسرے سبل کا لفظ جمع رکھ کر اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس تعلیم میں انسان کی مختلف ضرورتوں کا خیال رکھا گیا ہے اور اپنے وقت کے لحاظ سے یہ مکمل شرائع ہیں۔وَلَنَصْبِرَنَّ کے لفظ سے اپنی کمزوری کا مزید اقرار کیا ہے۔اور بتایا ہے کہ بجائے اپنی فضیلت اور طاقت کا دعویٰ کرنے کے ہم تو اقرار کرتے ہیں کہ ظاہری سامانوں کے لحاظ سے تم ہم پر غالب ہو۔اور ہم جانتے ہیں کہ تم ہم کو ہر قسم کے دکھ دو گے۔مگر ہم چونکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کھڑے ہوئے ہیں۔ہم ان دکھوں کو پوری طرح برداشت کریں گے۔اور ثابت کریں گے کہ اپنی برتری اور فائدہ ہمارے مدنظر نہیں ہے۔توکّل علی اللہ سب سہاروں سے آزاد کر دیتا ہے پھروَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ کہہ کر یہ بھی بتا دیا ہے کہ ہر شخص کو دوسرے کا سہارا ڈھونڈنا پڑتا ہے۔کوئی شخص اکیلا اپنی ضروریات پوری نہیں کرسکتا۔تو جب سہارا لینا ہی ضروری ہے اور ہر شخص کو سہارا ڈھونڈنا پڑتا ہے تو پھر معمولی سہارا کیوں تلاش کریں۔کیوں نہ خدا تعالیٰ پر ہی توکل کریں تا باقی سب سہاروں سے آزاد رہیں؟ اس آیت سے علاوہ اور سبقوں کے مومن کو یہ سبق بھی حاصل کرنے چاہئیں۔مومن اپنی ذات کے متعلق صبر اور دینی کاموں کے لئے غیرت سے کام لیتا ہے ۱- مومن کی شان یہی ہے کہ وہ صبر سے زیادہ کام لے۔غصہ کم کرے مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ صبر اور غیرت میں فرق ہے۔اپنی ذات کے متعلق صبر سے کام لینا چاہیے اور دین کے کاموں کے متعلق غیرت سے مگر ناجائز غیرت نہ ہو جائز غیرت ہو۔خدا تعالیٰ پر توکّل نہ کرنے کی وجہ کامل یقین سے محرومیت ہے ۲ - توکل کے متعلق تصوف کا یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں انسان سہارے تو ہمیشہ ڈھونڈتا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ لوگ خدا پر توکل نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل یقین لوگوں کو نصیب نہیں ہوتا۔لیکن نبی چونکہ اس کی شفقتوں کا مشاہدہ کرلیتے ہیں اس لئے وہ اور ان کے پیرو نہایت خوشی سے خدا پر توکل کرتے ہیں۔انبیاء کا اصل کام یقین اور توکّل پیدا کرنا ہے اور اصل کام نبیوں کا یہی ہوا کرتا ہے کہ وہ خدا کے متعلق