تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 120

سلطان کے معنے ہیں دلیل۔أَلتَّسَلُّطُ۔قبضہ وَقُدْرَۃُ الْمَلِکِ۔بادشاہ کی طاقت (اقرب) تو فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ کے معنے ہوں گے ہمارے پاس کوئی روشن نشان اور دلیل لاؤ۔یا اپنی طاقت کا اظہار کرو۔تفسیر۔فاطر کا لفظ پیدائش کی ابتدا کے متعلق اشارہ کرتا ہے قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کُنْتُ لَاأَدْرِیْ مَاھُوَ فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ۔حَتَّی اَتَانِیْ اَعْرَابِیَّانِ یَخْتَصِمَانِ فِیْ بِئْرٍ فَقَالَ اَحَدُھُمَا اَنَا فَطَرْتُھَا اَیْ اَنَا ابْتَدَأْ تُھا (اقرب) ابن عباس کہتے ہیں کہ فاطر کے معنے پوری طرح مجھ پر نہ کھلے تھے۔لیکن ایک دفعہ میرے پاس دو اعرابی ایک کنوئیں کے بارہ میں جھگڑتے ہوئے آئے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ اَنَا فَطَرْتُہَا میں نے اس کنوئیں کو پہلے بنانا شروع کیا تھا۔تب اس لفظ کے معنی مجھے معلوم ہوئے۔پیدائش کے چار مراتب ابن عباس کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ فاطر کا لفظ پیدائش کی ابتداء کی طرف اشارہ کرتا ہے اور قرآن شریف نے پیدائش کے چار مراتب بیان فرمائے ہیں۔پہلا مرتبہ۔۱- خلق کا وہ مرتبہ جس سے پہلے کسی قسم کا کوئی وجود موجود نہ تھا۔دوسرا مرتبہ۲- خلق کا وہ مرتبہ جب مادہ تو تھا مگر اس سے آگے کوئی چیز متکیّف ہونی شروع نہ ہوئی تھی۔تیسرا مرتبہ۳- خلق کا وہ مرتبہ جب اجتماع کے ذریعہ سے مادہ کے اندر مختلف قسم کی طاقتیں پیدا ہونی شروع ہوئیں اور قوانین تیار ہونے لگے جس کی تکمیل کا نام قانونِ قدرت ہے۔چوتھا مرتبہ۴- خلق کا وہ مرتبہ جبکہ ان قوانین کے مطابق خلق میں تکرار شروع ہوا۔یعنی نسل اور ولادت وغیرہ کا سلسلہ شروع ہوا۔جیسے انسان سے انسان کا پیدا ہونا۔غلہ کا غلہ سے نکلنا۔فاطرکے لفظ سے دوسرے مرتبہ کو بیان کیا گیا ہے فَطُوْر کا لفظ چونکہ ایک چیز کے دوسری چیز سے نکلنے پر دلالت کرتا ہے اس لئے فَاطِر کے لفظ سے پیدائش کے دوسرے مرحلہ کو بیان کرنا مقصود ہے۔انبیاء کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے کہنے پر وعظ کرتے ہیں۔اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے۔تو کیا تم کو اللہ کے متعلق شک ہے کہ وہ الہام بھیج سکتا ہے یا نہیں؟ اگر یہ شک ہے تو بالکل غلط ہے۔کیونکہ وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔اس کی نسبت یہ امید رکھنا کہ وہ مخلوق کو پیدا کرکے روحانی ہدایت کے بغیر چھوڑ دے گا عقل کے خلاف ہے۔دوسرے یہ کہ یہ خیال کرنا بھی کہ وہ جسمانی زمین و آسمان تو پیدا کرے گا مگر روحانی زمین و آسمان کی پیدائش کو نظرانداز کر دے گا عقل کے بالکل خلاف ہے۔