تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 78
ہدایت ساتھ نہ ہو یہ ایک کامل ہستی کی شان کے خلاف ہے۔اس کے تو یہ معنی ہوں گے کہ وہ اپنا کام آپ باطل کرتا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ بے عیب ہے اس لئے وہ اس بات سے بھی بالا ہے اور وہ ایسا نہیں کرسکتا۔وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا اور( تمام) لوگ ایک ہی گروہ( بنے ہوئے) تھے پھر انہوں نے آپس میں اختلاف (پیدا) کر لیا۔اور جو بات كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيْمَا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ۰۰۲۰ تیرے رب کی طرف سے پہلے (بہ صورت وعدہ) آچکی ہے اگر وہ( مانع) نہ ہوتی تو جس (امر) میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اس کے متعلق ان کے درمیان (کبھی کا) فیصلہ (صادر) کیا جاچکا ہوتا۔حلّ لُغات۔اُمَّۃٌ اَلْاُمَّۃُ اَلْجَمَاعَۃُ (جماعت، مجتمع گروہ) اَلْجِیْلُ مِنْ کُلِّ حَیٍّ قوم(اقرب) اَلطَّرِیْقَۃُ۔طریقہ۔اَلدِّیْنُ۔مذہب۔اَلْحِیْنُ۔وقت اَلْقَامَۃُ قد۔(اقرب) اِخْتَلَفَ اِخْتَلَفَ ضِدُّ اِتَّفَقَ ایک دوسرے سے اختلاف کیا۔زَیْدٌ عَمْرًا کَانَ خَلِیْفَتُہٗ جانشین بنا جَعَلَہٗ خَلْفَہٗ دوسرے کو اپنے پیچھے کر دیا۔اَخَذَہٗ مِنْ خَلْفِہٖ پیچھے سے پکڑا۔اِلَی الْخَلٓاءِ تَرَدَّ دَاِلَیْہِ (اقرب) بار بار گیا اور آیا۔کَلِمَۃٌ اَلْکَلِمَۃٌ اَللَّفْظَۃُ لفظ کُلُّ مَا یَنْطِقُ بِہِ الْاِنْسَانُ جو کچھ بھی کہا اور بولا جائے۔(اقرب) قَضٰی قَضٰی بَیْنَ الْخَصْمَیْنِ حَکَمَ وَفَصَلَ فیصلہ کیا۔( اقرب) تفسیر۔لوگوں کے ایک امت ہونے کے معنی لوگوں کے ایک امۃ ہونے کے کئی معنے ہیں۔(۱) ہم نے تو لوگوں کو ابتداء میں ایک ہی راہ پر چلایا تھا پھر وہ بگڑ گئے۔جس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم نے تو انسان کے اندر ہدایت کا مادہ رکھا تھا اور صحیح راستہ بھی بتا دیا تھا مگر انسان خود ہی اس راستہ کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف چل پڑا۔بندہ کو ہدایت کے لئے پیدا کیا گیا ہے نہ جہنم کو بھرنے کے لئے ان معنوں سے یہ بھی نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو ہدایت کے لئے پیدا کیا ہے۔تبھی تو اسے ہدایت دی۔اگر دوزخ کے لئے پیدا کیا ہوتا جیسا کہ بعض لوگ آیات قرآنی کو نہ سمجھتے ہوئے خیال کرتے ہیں تو ابتداء میں انسانوں کو جہنمی راہ پر چلانا چاہیے تھا۔پھر ان میں سے جو نکل کر جنتی بن جاتے انہیں جنت میں داخل کر دیا جاتا۔مگر ایسا نہیں ہوا۔