تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 77
نَبَأٌ تُنَبِّئُوْنَ باب تفعیل سے فعل مضارع ہے۔اس کا مادہ نَبَأٌ ہے۔جس کے معنی خبر کے ہیں۔کُلیات ابی البقاء میں ہے کہ یہ لفظ کسی معمولی خبر کے لئے نہیں بولا جاتا۔بلکہ جس امر کو کسی وجہ سے اہمیت اور خاص وقعت حاصل ہو اسی کے لئے اطلاق پاتا ہے۔اور اسی رنگ میں ہر مقام پر قرآن کریم میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔(اقرب) سُبْحَانَ سُبْحَانَ اللہِ اَیْ اُبَرِّیُٔ اللہَ مِنَ السُّوءِ بَرَاءَ ۃً۔سُبْحَانَ کے معنی عیوب سے پاک سمجھنے اور پاک کرنے کے ہیں۔(اقرب) اَشْرَکَ یُشْرِکُوْنَ اَشْرَکَ کا فعل مضارع ہے جس کے معنی ہیں جَعَلَ لَہٗ شَرِیْکًا۔کسی کو کسی کا شریک قرار دیا اور حصہ دار ٹھہرایا۔(اقرب) تفسیر۔شرک کا باعث خدا پراور اپنے نفس پر بد ظنی ہے شرک کا باعث اصل میں انسانی پیدائش کے مقصد کو نہ سمجھنا ہے۔مشرک خدا پر بھی بدظنی کرتا ہے اور اپنے نفس پر بھی۔شرک کے عقیدہ کی بنیاد ہی اس اصل پر ہے کہ خدا تعالیٰ تک ہم بغیر واسطہ کے نہیں پہنچ سکتے اور نہ وہ ہم تک بغیر واسطہ کے پہنچ سکتا ہے۔اسلام اس تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔وہ نہ خدا پر بدظنی کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ اپنے نفس کی طاقتوں سے مایوسی کی۔خدا تعالیٰ نے بندہ کو اپنے تک پہنچنے کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ اپنے اور اس کے درمیان کسی حائل ہونے والی ہستی کو برداشت نہیں کرسکتا۔ایک لطیف دلیل اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ میں شرک کے متعلق کیا ہی لطیف جواب فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمان میں یا زمین میں کوئی شفیع ہوتا تو اس کا اعلان خدا کی طرف سے ہونا چاہیے تھا۔عہدہ دار کی تعیین گورنمنٹ گزٹ سے ظاہر کی جاتی ہے۔فرمایا بجائے اس کے کہ خدا کی طرف سے علم آتا تم لوگ اعلان کرتے ہو کہ فلاں خدا کا شریک ہو گیا ہے۔جبکہ تمام نبی بھی جو صرف پیغام بر ہونے کی حیثیت رکھتے ہیں ہمیشہ خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کھڑے کئے جاتے ہیں۔تو شریک جو خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں تمہارے نزدیک ساجھی ہیں۔کس طرح تمہارے ہاتھوں بنائے جاسکتے ہیں اور الہامی دلیل سے ان کا عہدہ قائم نہیں کیا جاتا؟ پس معلوم ہوا کہ شریک کا علم پہلے تم کو ہوتا ہے اور تم اس کا علم خدا تعالیٰ کو دیتے ہو۔ایک پتھر کو لیتے ہو اور ایک جگہ رکھ کر اسے خدا قرار دے دیتے ہو۔یا ایک کمزور آدمی کو لیتے ہو اور اسے خدائی طاقتیں عطا کر دیتے ہو۔آسمان اور زمین دونوں کو اس لئے شامل کیا کہ بعض شریک آسمان میں قرار دیئے جاتے ہیں اور بعض زمین میں اس کے بعد سُبْحَانَہٗ سے یہ بتایا کہ انسان کو ایک مقصد کے لئے پیدا کرکے پھر راستہ میں روکیں رکھ دینا اور روکیں بھی ایسی کہ ان کو معلوم کرنے کے لئے کوئی الہامی