تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 79

اتحاد کو مٹانے والا عذاب کا مستحق ہے (۲) لوگ ہمیشہ نبیوں کے ذریعہ سے ایک طریقہ پر قائم کئے جاتے ہیں۔ہم نبی بھیج کر انہیں راہ راست پر لاتے ہیں۔مگر وہ پھر اختلاف کر بیٹھتے ہیں۔اگر ہم نے یہ وعدہ نہ کیا ہوتا کہ عذاب بغیر تنبیہ کے نہ آئے گا تو ہم انہیں ہلاک کر دیتے۔مگر وعدہ ہے۔اس لئے ہم پھر نبی بھیجتے ہیں۔پھر وہ لوگ ان کو مان کر ان کے ہاتھوں پر جمع ہوجاتے ہیں۔اور پھر کچھ عرصہ کے بعد اختلاف کر بیٹھتے ہیں۔ان معنوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یاد رکھنا چاہیے کہ نبی کے ذریعہ سے قائم شدہ اتحاد کو مٹانے والا دنیا کی تباہی کو بلاتا ہے۔اس لئے وہ سخت عذاب کا مستحق ہے۔(۳) لوگ ہمیشہ ایک ہی راہ اختیار کرتے ہیں۔پہلے لوگوں نے بھی نبیوں کی مخالفت کی اور ان کے ساتھ توافق نہ کیا۔اب یہ بھی ویسا ہی کرتے ہیں۔اگر ہمارا یہ فیصلہ نہ ہوتا کہ انسان کو ہدایت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور رحم غالب رہے گا تو اس جرم کی وجہ سے ان کا فیصلہ ہی کردیتے۔وَ يَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا اور وہ کہتے ہیں کہ اس( رسول )پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان کیوں نہیں اتارا گیا۔اس لئے تو( انہیں) کہہ الْغَيْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَؒ۰۰۲۱ (کہ اس) غیب (کی بات کا علم) اللہ( تعالیٰ) ہی کے پاس ہے۔اس لئے تم (اس کا) انتظار کرو میں (بھی )تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔حلّ لُغات۔اَلْغَیْبُ کُلُّ مَا غَابَ عَنْکَ ہر پوشیدہ چیز۔اَلسِّرُّ راز۔مَاغَابَ عَنِ الْعُیُوْنِ۔آنکھوں سے پوشیدہ چیز۔(اقرب) تفسیر۔خدا کے بھیجے سب نشان ہوتے ہیں اس جگہ مِنْ رَّبِّہٖ بَیِّنَۃٌ کے قائم مقام ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو دلیل آتی ہے وہ بینہ ہوتی ہے یعنی وہ اپنے مطلب کی طرف خود بلاتی ہے گویا بولتی ہوئی دلیل ہوتی ہے۔ہمیشہ سے انبیاء کے دشمن کہتے آئے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی دلیل نہیں اتری۔کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ یہ سورۃ تو شروع ہی تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِيْمِسے ہوتی ہے۔(یعنی یہ کتاب حکیم کی آیات ہیں) مگر مخالفین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ اس پر کوئی آیت نہیں اتری۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آیات ہر شخص کو نظر نہیں آیا کرتیں۔ان کے دیکھنے کے لئے بھی خشیت اللہ کی آنکھ کی ضرورت ہے۔ورنہ کس طرح ممکن تھا کہ