تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 76
لے آئی اور ان کا کوئی الگ سلسلہ باقی نہ رہا۔بہائیت کی ناکامی پھر دوسری طرف یہ معیار جھوٹے مدعیوں کے دعوے کو بھی رد کرتا ہے۔مثلاً بہاء اللہ کو لے لو۔اگر بالفرض ان کو مدعی نبوت و رسالت مان بھی لیا جائے اور ان کے مرید بھی لاکھوں ہوں تب بھی یہ ان کی صداقت کا ثبوت نہیں۔کیونکہ ان کا مقصد شریعت اسلامی کو ناقص بتاکر بہائی شریعت کو اس کی جگہ قائم کرنا تھا اور یہ مقصد ایک دن کے لئے بھی اور ایک گھر میں بھی پورا نہ ہوا۔بلکہ قرآن مجید پہلے سے بھی زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔اور بہت سے یورپین بھی جو پہلے اسے جھوٹا سمجھتے تھے اب اسے سچا کہہ رہے ہیں۔بہاء اللہ جس شریعت کو منسوخ کرنے آئے تھے وہ تو آج اور بھی زیادہ مقبول ہورہی ہے مگر ان کی اپنی شریعت طاقِ نسیان پر پڑی ہے۔اب اگر سارا امریکہ بھی بہائی ہوجائے تب بھی بہاء اللہ اس وقت تک مُفلح نہیں کہلا سکتے جب تک کہ بہائی تعلیم دنیا میں قائم نہ ہوجائے غرض اَفْلَحَ کے لفظ نے سچوں کو اعتراض سے بچا لیا اور جھوٹوں کی کامیابی کی حقیقت کھول دی۔وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَ لَا اور یہ (لوگ) اللہ (تعالیٰ) کو چھوڑ کر ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انہیں نقصان دیتی ہے اور نہ نفع پہنچاتی يَنْفَعُهُمْ وَ يَقُوْلُوْنَ هٰؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ ہےاور کہتے ہیں (کہ )یہ( ہمارے معبود) اللہ کےحضور میں ہمارے شفیع ہیں تو( انہیں) کہہ( کہ) کیا تم اللہ ( تعالیٰ) اَتُنَبِّـُٔوْنَ۠ اللّٰهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِي الْاَرْضِ١ؕ کووہ (بات) بتاتے ہوجس کے متعلق نہ آسمانوں میں (پائے جانے کا) اسے علم ہے اور نہ( ہی) زمین میں (کہیں سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۰۰۱۹ اس کے وجود کاکوئی پتہ)۔وہ پاک ہے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے وہ بالا تر ہے۔حلّ لُغات۔دُوْنَ دُوْنَ نَقِیْضُ فَوْقَ نیچے بمعنی اَسْفَلْ نچلا اور بمعنی اِمَامٌ آگے و بمعنی وَرَآءٌ پیچھے اور بمعنی فَوْقٌ اوپر و بمعنی غَیْرٌ سوائے و بمعنی الشَّرِیْفُ قابل عزت و بمعنی الْخَسِیْسُ حقیر۔(اقرب) ھٰؤلٓاء ھٰؤلٓاءِ اسم اشارہ قریب بصیغہ جمع۔یہ ذوی العقول کے لئے مخصوص ہے۔