تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 48

اور بنی نوع انسان کی ہمدردی اس کی ہر حرکت کا موجب ہوتی ہے۔دَعْوٰىهُمْ فِيْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ ان (جنتوں) میں (خدا تعالیٰ کے حضور) ان کی پکار اے اللہ (ہم) تیری تسبیح( کرتے ہیں) ہوگی۔اور( ان کی) اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۱۱ ایک دوسرے کے لئے دعا( تمہارے لئے ہمیشہ کی) سلامتی (ہو)ہوگی اور ان کی دعا کا آخری حصہ یہ ہوگا کہ ہر ( قسم کی) تعریف اللہ( تعالیٰ) ہی کو سزاوارہے۔حلّ لُغات۔دَعْوٰی دَعْویٰ پکار اور آواز کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔تَحِیَّۃٌ کے معنی ہیں سلام۔جیسے ہم آپس میں السلام علیکم کہتے ہیں۔بقا۔السّلامۃ من الاٰفات۔بلاؤں سے محفوظ رہنا۔اَلْمُلْکُ بادشاہت یہ معنی اس وجہ سے پیدا ہو گئے ہیں کہ جب کوئی شخص بادشاہ بنایا جاتا تھا تو لوگ کہتے تھے نَالَ فُلَانٌ التَّحِیَّۃُ کہ فلاں شخص کو سلام کا مقام حاصل ہو گیا ہے یعنی وہ سلام جو بادشاہوں سے مخصوص تھا۔اور وہ اَبَیْتَ اللَّعْنُ کے الفاظ تھے۔جاہلیت کے زمانہ میں جو بادشاہ ہوتا اس کے ساتھ کلام کرتے وقت یہ الفاظ بولے جاتے تھے جن کے معنی یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ تجھے ہر قسم کے اعتراض اور شکست سے بچائے۔اَلتَّحِیَّۃُ مِنَ اللہِ: اَلْاِ کْرَامُ وَالْاِحْسَانُ۔یعنی جب کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی مخلوق کو تحیہ حاصل ہوا ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اسے عزت دی گئی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کیا ہے۔(اقرب) سَلَامٌ۔سَلَامٌ کے کئی معنی ہیں۔اِسْمٌ مِنَ التَّسْلِیْمِ۔باب تفعیل سے اسم مصدر ہے اور اس کے معنی سلامتی دینے کے ہیں۔اِنْقِیَادٌ یعنی فرمانبرداری۔سلام خدا کا نام بھی ہے۔کیونکہ وہ تمام عیبوں اور نقصوں سے پاک ہے۔(الحشر ع۴)۔(اقرب) تفسیر۔جنّت میں یہ کلمات علم و بصیرت کی بنا پر صادر ہوں گے اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ مومن جب اخروی انعامات پائیں گے تو پہلے تو بے اختیار ان کے منہ سے سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ نکلے گا۔یعنی اے اللہ !تو ہر عیب سے پاک ہے۔(۲) دوسرے وہ آپس میں سلام کریں گے یا ان کو خدا کی طرف سے سلام ملے گا۔(۳) تیسرے ان کا آخری کلام یہ ہوگا کہ وہ اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَکہیں گے۔یہ جو فرمایا کہ وہ جنت میں