تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 47
پنے تھے جس طرح اس دنیا میں افسران انہار زمینداروں کو لوٹتے ہیں یا انہیں سرکاری ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں وہاں ایسا نہ ہوگا۔بلکہ نہریں ان کی اپنی ملکیت ہوں گی۔نَعِیْمٌ اَلنَّعِیْمُ عام طور پر لوگ اس کے معنی غلط سمجھتے ہیں۔اور وہ اسے نعمت کی جمع قرار دیتے ہیں۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔بلکہ اَلنَّعِیْمُ کے معنی (۱) عطیہ (اقرب) یا (۲) اَلنِّعْمَۃُ الْکَثِیْرَۃُ یعنی بہت سی نعمت کے ہوتے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔ایمان کے ساتھ عمل کی شرط اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اصل ہدایت ایمان کے سبب سے ملتی ہے۔خالی عمل کچھ چیز نہیں۔جب تک اس کے ساتھ دل کی اصلاح نہ ہو۔ایک شخص چوری کا پورا ارادہ رکھتا ہو مگر اسے چوری کا موقع نہ ملے تو وہ دیانت دار نہیں کہلا سکتا۔اسی طرح دل تو غیراللہ کے خوف سے پر ہو مگر ظاہر میں اسے سجدہ نہ کرے تو وہ شخص موحد نہیں کہلا سکتا۔بعض نادان یہ خیال کرتے ہیں کہ اسلام عمل پر زور نہیں دیتا۔بلکہ صرف ایمان کو پیش کرتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں۔اسلام جس بات پر زور دیتا ہے وہ یہ ہے کہ عمل کے ساتھ دل کی پاکیزگی بھی ضروری ہے۔اگر دل پاک نہیں اور عمل کا ساتھ نہیں دیتا تو ایسا ایمان کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔اور کون عقل مند اس امر کا انکار کرسکتا ہے کہ اصل پاکیزگی دل کی اور خیالات کی پاکیزگی ہے۔جب دل پاک ہوجاتا ہے تو ممکن ہی نہیں ہوتا کہ اعمال اس کی اتباع نہ کریں۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ انسان لوگوں کے خوف سے عمل اور قسم کے کرے مگر یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ انسان لوگوں کے خوف سے اپنے خیالات کو بدل لے۔دل پر دوسرے انسانوں کا تصرف نہیں ہوتا۔زبردست بادشاہوں کے قبضہ سے بھی دل بالا ہے۔پس ایسی چیز پر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا مدار رکھا ہے جو خود انسان کے قبضہ میں ہے۔اور دوسرے لوگوں کا اس میں دخل نہیں۔جزا ایمان کے مطابق ہو گی بِـاِیْـمَانِہِمْ کہہ کر اس امر کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جزاء ایمان کے مطابق ہوگی۔یعنی ظاہری عمل میں گو وہ شخص برابر ہوں لیکن وہ اخلاص اور وہ محبت جو عمل کے پیچھے ہے اس سے جزاء میں فرق آجائے گا۔یہ بھی ایک زبردست نکتہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کو تم پر فضیلت اس چیز کے سبب سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نمازیں زیادہ پڑھتا ہے اور روزے بھی زیادہ رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ایک دوسرا شخص جذب کرلیتا ہے اس کی وجہ اس کے دل کی حالت ہوتی ہے۔حقیقی پاکیزگی اور اخلاص جسے زیادہ حاصل ہوتا ہے اس کے تھوڑے عمل زیادہ فوائد کو کھینچ لیتے ہیں۔درحقیقت اس شخص کے سب اعمال ہی عبادت بن جاتے ہیں۔کیونکہ اس کے بظاہر دنیوی نظر آنے والے اعمال بھی خدا ہی کے لئے ہوتے ہیں۔