تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 49
جاتے ہی سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ کہیں گے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ان پر حقائق اشیاء کھل جائیں گے۔مومن دنیا میں سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّکہتا ہے مگر اس جگہ یہ صرف اعتقادی رنگ میں ہوتا ہے۔وہ کئی دفعہ آم کا چھلکا پڑا دیکھتا ہے اور اسے فضول سمجھتا ہے۔یا رات کو ایک کیڑاا س کے بستر میں آ گھستا ہے وہ اس کی حکمت نہیں جان سکتا۔لیکن تاہم وہ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّکہتا ہے۔ایسا ہی وہ جنگل میں جھاڑیاں دیکھتا ہے جن میں بعض کانٹے دار ہیں اور بعض بے کانٹے۔ایسا ہی بعض درخت، ان کے پتے ،ان کی شاخیں دیکھتا ہے اور ان کی حکمت نہیں جانتا۔وہ یہ سمجھ کرکہ کوئی حکمت ہوگی سبحان اللہ کہہ دیتا ہے۔کیونکہ ہم اس دنیا میں قیاس کرلیتے ہیں کہ جب بعض چیزوں میں اس کی حکمت نظر آتی ہے تو باقی چیزوں میں بھی ضرور حکمت ہوگی۔نیز خدا کا سچا کلام بتلاتا ہے کہ خدا بے عیب ہے۔ہم ایمان لاتے ہیں۔اگرچہ کروڑوں چیزیں ایسی ہیں جن کی حکمت ہمیں معلوم نہیں مگر باوجود اس کے سبحان اللہ کہتے رہتے ہیں۔لیکن جنت میں جو سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ کہا جائے گا وہ علم کی بناء پر ہوگا۔وہاں انسان پر کھل جائے گا کہ دنیا میں ہر ایک حقیر سے حقیر چیز یا چھوٹے سے چھوٹا واقعہ ایک سبب اور ایک اثر رکھتا تھا۔اور دنیا اور دنیاوالوں کی ترقی یا تنزل یا فائدہ یا نقصان پراثر کر رہا تھا۔اور چونکہ اس دنیا کے اعمال اگلے جہان میں مجسم ہوں گے اس لئے اس دنیا کی ہر اک چیز کی حقیقت انسان کو معلوم ہوجائے گی۔اور وہ علم کی بناء پر جان لے گا کہ اس دنیا میں کوئی چیز بھی بے حقیقت نہ تھی۔بلکہ کوئی حرکت بھی بے حقیقت نہ تھی۔پس بے اختیار ہوکر سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ اس کے منہ سے نکل جائے گا۔اور چونکہ دنیا کی تمام تکالیف حقائق اشیاء کے عدم علم کی وجہ سے ہوتی ہیں۔حکمت نہ جاننے کی وجہ سے سنکھیا کی مقررہ مقدار سے زیادہ استعمال کرکے لوگ تکلیف اٹھاتے ہیں۔یا مثلاً آگ کھانا پکانے کے لئے بنائی گئی ہے لیکن ایک بچہ اسے اپنے کپڑوں میں لگالیتا ہے اور مر جاتا ہے۔غرض تمام بیماریاں اور تکلیفیں چیزوں کی حکمتوں کے نہ جاننے کی وجہ سے آتی ہیں۔لیکن جنت میں چونکہ سب حقیقتیں کھل جائیں گی اور حکمتیں معلوم ہوجائیں گی اس لئے حقیقی سلام یعنی کامل سلامتی بھی حاصل ہو جائے گی۔کیونکہ حکمتوں کے جان لینے کی وجہ سے وہ چیزوں کی مضرت سے بچ جائیں گے۔اور مصیبت اور آفت سے چھوٹ جائیں گے۔اس لئے سبحان اللہ کے بعد جو کشف الحقائق ہو جانے پر فوراً ان کے منہ سے علیٰ وجہ البصیرت نکلے گا وہ یہ بھی پکار اٹھیں گے کہ یہاں تو سلامتی ہی سلامتی ہے کیونکہ وہ علم کامل کی وجہ سے چیزوں کے غلط استعمال سے بچ جائیں گے۔اور ان کا صحیح استعمال کرکے فائدہ اٹھائیں گے اور جب سلامتی حاصل ہو جائے گی تو بے اختیار الحمدللہ کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے یہ مرتبہ اور یہ مقام ہمیں عطا فرمایا کہ ہر قسم کے کمالات ہمیں مل گئے اور ہمارے سب اعمال کے سب نتائج اب اچھے ہی اچھے نکلتے ہیں